سعودی عرب کو ایف-35 کی فروخت کے بعد اسرائیل کی امریکا سے اضافی دفاعی صلاحیتیں مانگنے کی تیاری
تل ابیب، 19 ستمبر(ہ س)۔ امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری کے بعد اسرائیل نے واشنگٹن سے اضافی اور جدید دفاعی صلاحیتیں حاصل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب اس فروخت کے جواب م
سعودی عرب کو ایف-35 کی فروخت کے بعد اسرائیل کی امریکا سے اضافی دفاعی صلاحیتیں مانگنے کی تیاری


تل ابیب، 19 ستمبر(ہ س)۔ امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو جدید ایف-35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری کے بعد اسرائیل نے واشنگٹن سے اضافی اور جدید دفاعی صلاحیتیں حاصل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تل ابیب اس فروخت کے جواب میں امریکا سے ایسے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ کرسکتا ہے جنہیں امریکی انتظامیہ نے ماضی میں منظور نہیں کیا تھا۔اسرائیلی نیوز ویب سائٹ والا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے جن جدید دفاعی صلاحیتوں پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں جدید اسٹیلتھ طیاروں کے علاوہ خلائی ہتھیار، میزائل شکن انٹرسیپٹر نظام اور زیرِ زمین اہداف کو تباہ کرنے والے ہتھیار شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل ایسے زیرِ زمین نظام میں بھی دلچسپی رکھتا ہے جو چٹانی پہاڑوں کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کے خلاف کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہوں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا مقصد سعودی عرب کوایف-35 طیاروں کی فراہمی کے بعد اپنی موجودہ دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ تاہم، اسرائیلی حکام کی جانب سے امریکا کے سامنے حتمی طور پر کون سے نظام یا ہتھیاروں کی فہرست پیش کی جائے گی، اس کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے 17 ستمبر کو سعودی عرب کو ممکنہ طور پر 48 ایف-35 طیارے فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔ مجوزہ معاہدے کی مجموعی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے۔ اس پیکیج میں 49 پراٹ اینڈ وٹنی ایف135 انجن، مواصلاتی و خفیہ کاری کا سامان، الیکٹرانک وارفیئر سپورٹ، تربیتی سہولتیں، اسپیئر پارٹس اور لاجسٹک سپورٹ بھی شامل ہے۔یہ منظوری ابھی حتمی فروخت کے مترادف نہیں ہے، کیونکہ مجوزہ دفاعی معاہدے کو امریکی کانگریس کے جائزے کے مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا۔اگر معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو سعودی عرب ایف-35 حاصل کرنے والا پہلا عرب ملک بن جائے گا، جبکہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل ہی ایف-35 طیارے استعمال کرنے والا ملک ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ فروخت سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے اور امریکی افواج کے ساتھ اس کی انٹرآپریبلٹی بہتر بنانے میں مدد دے گی، جبکہ واشنگٹن کے مطابق اس معاہدے سے خطے میں فوجی توازن تبدیل نہیں ہوگا۔ایف-35 کی سعودی عرب کو ممکنہ فروخت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل خطے میں اپنی فوجی اور تکنیکی برتری برقرار رکھنے پر توجہ دے رہا ہے۔ اسرائیل اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں F-35 طیارے چلانے والا واحد ملک ہے، اسی لیے سعودی عرب کو ان طیاروں کی فراہمی سے متعلق اسرائیل میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اس پس منظر میں اسرائیل کی جانب سے امریکا سے مزید جدید دفاعی نظام حاصل کرنے کی کوشش کو سعودی عرب کے لیے ایف-35 معاہدے کے بعد اپنی فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، مجوزہ اسرائیلی مطالبات اور ان پر واشنگٹن کے ممکنہ فیصلے کے بارے میں حتمی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande