پابل گھاٹی میں جعلی ڈاکٹر کے خلاف دوبارہ کارروائی ، غیر قانونی ادویات کا ذخیرہ ضبط
رائے گڑھ، 19 ستمبر (ہ س) ۔ ضلع رائے گڑھ کے پین تعلقہ کی انتہائی دشوار گزار پابل گھاٹی میں بغیر اجازت طبی پریکٹس کرنے کے الزام میں ایکناتھ راگھو موکل کے خلاف محکمہ صحت نے دوبارہ کارروائی کی ہے۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے بڑی مقدار میں غیر قا
Raigad Fake Doctor Action Medicines Seized


رائے گڑھ، 19 ستمبر (ہ س) ۔ ضلع رائے گڑھ کے پین تعلقہ کی انتہائی دشوار گزار پابل گھاٹی میں بغیر اجازت طبی پریکٹس کرنے کے الزام میں ایکناتھ راگھو موکل کے خلاف محکمہ صحت نے دوبارہ کارروائی کی ہے۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے بڑی مقدار میں غیر قانونی ادویات کا ذخیرہ ضبط کیا گیا۔ اس معاملے میں وڈکھل پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایکناتھ موکل اوولی کا رہنے والا ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ ضروری طبی اہلیت کے بغیر دور دراز علاقے کے لوگوں کا علاج کر رہا تھا۔خاص بات یہ ہے کہ ایکناتھ موکل کے خلاف اس سے پہلے بھی غیر مجاز طور پر طبی کاروبار کرنے کے الزام میں 2014 اور 2023 میں کارروائی کی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود دوبارہ طبی پریکٹس جاری رکھنے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد انتظامیہ کی توجہ اس معاملے کی طرف مبذول ہوئی۔ انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ متعلقہ شخص کے پاس کسی بھی قسم کی طبی اہلیت نہ ہونے کے باوجود پابل گھاٹی کے دور دراز علاقوں میں شہریوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس اطلاع کی بنیاد پر گڈب پرائمری ہیلتھ سینٹر کے طبی افسر ڈاکٹر چیتن اویناش مہاتر کی قیادت میں ایک ٹیم نے کارروائی کی۔اس کارروائی میں محکمہ خوراک و ادویات کے افسر سندیپ نروانے، محکمہ صحت کے نگران سمیر سانپ اور ایمبولینس ڈرائیور ساگر پاٹل شامل تھے۔ ٹیم نے موقع پر پہنچ کر طبی سرگرمیوں اور وہاں موجود ادویات کے ذخیرے کی جانچ کی۔ تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں ادویات کا ذخیرہ موجود پایا گیا۔ محکمہ خوراک و ادویات کے مقررہ ضوابط کے مطابق اس ادویات کے ذخیرے کو ضبط کیا گیا اور موقع پر پنچ نامہ بھی تیار کیا گیا۔اس معاملے میں وڈکھل پولیس اسٹیشن میں ایکناتھ موکل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ مقامی لوگوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ پہلے بھی کئی مرتبہ کارروائی ہونے کے باوجود متعلقہ شخص دوبارہ غیر مجاز طبی پریکٹس کیسے شروع کر رہا تھا اور اسے ادویات کی فراہمی کہاں سے ہو رہی تھی۔ مقامی سطح پر ان دونوں پہلوؤں کی بھی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔دریں اثنا محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ دور دراز علاقوں میں غیر مجاز طور پر طبی پریکٹس کرنے والے افراد کے خلاف آئندہ بھی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ محکمہ صحت نے ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر طبی خدمات فراہم کرنے کی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande