ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان، سینکڑوں تنصیبات متاثر
واشنگٹن، 19 ستمبر(ہ س)۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا کو حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں کویت کے تین امریکی فوجی اڈوں اور سعودی
ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان، سینکڑوں تنصیبات متاثر


واشنگٹن، 19 ستمبر(ہ س)۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا کو حاصل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں کویت کے تین امریکی فوجی اڈوں اور سعودی عرب کے ایک ایسے اڈے پر تباہ شدہ عمارتیں، فوجی سازوسامان اور ایک طیارہ دکھائی دیا ہے جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔ بعض مقامات سے امریکی اہلکاروں اور اثاثوں کو منتقل بھی کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر مارچ کے اواخر میں ایک E-3 سینٹری نگرانی اور کمانڈ طیارہ ایرانی حملے میں شدید متاثر ہوا۔ اس طیارے کی مالیت تقریباً 27 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے۔ تصاویر میں طیارے کے پچھلے حصے کو شدید نقصان پہنچا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایک سینئر امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ بعض امریکی اڈوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے اور اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ اسی اہلکار نے پینٹاگون پر حملوں سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں مکمل شفافیت نہ برتنے کا الزام بھی عائد کیا۔پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایران کے حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر سینکڑوں عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئیں۔ رپورٹ میں امریکی سفارتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران امریکی فوجی سازوسامان کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق متعدد جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، جن میں MQ-9 ریپر ڈرون بھی شامل ہیں۔پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے جنگ کے ابتدائی مہینوں کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 33.4 ارب ڈالر لگایا ہے، جبکہ غیر جانب دار کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) کے مطابق اگست کے آغاز تک امریکی جنگی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ تازہ امریکی فوجی اندازوں میں یہ رقم اس سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طویل جنگ کے باعث امریکی اسلحہ اور گولہ بارود کے ذخائر پر دباو بڑھا ہے اور بعض اہم ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری اور فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 28 فروری 2026 کو جنگ شروع ہونے کے بعد 18 امریکی فوجی ہلاک اور 824 زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ کا سب سے ہلاکت خیز حملہ دوسرے روز کویت کے پورٹ شعیبہ میں ہوا، جہاں چھ امریکی فوجی مارے گئے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ فوجیوں اور فوجی تنصیبات کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض ایرانی میزائل اور دیگر ہتھیار امریکی دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔تازہ اطلاعات نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی، جنگی اخراجات، فوجی سازوسامان کے نقصانات اور طویل جنگ کے لیے امریکی دفاعی ذخائر کی دستیابی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande