
ممبئی، 19 ستمبر (ہ س) ۔ بھارتی ٹیکنالوجی ادارہ پوائی یعنی آئی آئی ٹی پوائی کے ایک 19 سالہ طالب علم کی موت کے بعد ہفتہ کو تقریباً 400 طلبہ نے ادارے کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔ طلبہ نے اس واقعے کے بعد ادارے کی کارروائی اور امتحانات جاری رکھنے پر سوال اٹھائے۔ پواے پولیس کی مداخلت کے بعد صورتحال قابو میں آئی اور پولیس نے طالب علم کی موت سے متعلق تمام پہلوؤں کی مکمل جانچ کا یقین دلایا ہے۔اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر کے مطابق آئی آئی ٹی پوائی کے 19 سالہ طالب علم ساحل نے جمعہ کی شام اپنے ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کی۔ یہ واقعہ وسط مدتی امتحانات کے دوران موبائل فون کے استعمال کے سلسلے میں ادارے کی جانب سے کی گئی کارروائی کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ اطلاع ملنے کے فوراً بعد پواے پولیس کی ٹیم آئی آئی ٹی کیمپس پہنچی اور طالب علم کی لاش کو قبضے میں لے کر راجا واڑی اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد طالب علم کے والدین بھی پوائی میں واقع آئی آئی ٹی کیمپس پہنچے۔ طالب علم کی والدہ نے ادارے کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے کو مارا پیٹا گیا اور اسے ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اس کے بعد طالب علم کے والدین نے بھی پوائی پولیس اسٹیشن میں ادارے کے خلاف ہراسانی کا معاملہ درج کرایا۔ تاہم آئی آئی ٹی پوائی کی انتظامیہ نے خاندان کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔آئی آئی ٹی پوائی کے ایک افسر کے مطابق وسط مدتی امتحان کے دوران ساحل نے مبینہ طور پر اپنے موبائل فون سے سوالنامے کی تصویر لے کر چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ امتحان کے دوران نگرانی پر مامور اہلکار نے اسے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔ ادارے کے مطابق اس واقعے کے بعد شعبہ کے سربراہ اور کچھ پروفیسروں نے ساحل کو بلایا اور اس سے بات چیت کے ساتھ اس کی رہنمائی اور کونسلنگ کی گئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد طالب علم کو ہاسٹل واپس بھیج دیا گیا تھا اور اس کے خلاف فوری طور پر کوئی سخت یا تادیبی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ادارے کے مطابق طالب علم کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ موبائل فون کے استعمال سے متعلق اس واقعے کا اس کے تعلیمی مستقبل پر اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم طالب علم کی موت کی خبر پھیلنے کے بعد آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں تقریباً 400 طلبہ مرکزی عمارت کے باہر جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرین نے واقعے کے باوجود امتحانات جاری رکھنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اتنے سنگین واقعے کے بعد ادارے کو امتحانات کے انعقاد پر نظر ثانی کرنی چاہیے تھی۔ فی الحال پوائی پولیس طالب علم کی موت سے پہلے پیش آنے والے واقعات، امتحان کے دوران موبائل فون کے استعمال پر ادارے کی کارروائی اور طالب علم کے خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات سمیت تمام پہلوؤں کی جانچ کررہی ہے۔ پولیس کی تحقیقات کے بعد ہی اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے