میٹرو ریل کے حصول میں تاخیر،سرکاری خزانے پر یومیہ 2.5کروڑ سود کا بوجھ
حیدرآباد ،19 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے میٹروریل کے پہلے مرحلے کے حصول کا عمل مقررہ مہلت میں مکمل نہ ہونے کے باعث مزید تین ماہ کیلئے التواء کاشکارہوگیا ہے۔13,600 کروڑ روپئے کے بینک قرض کی وصولی مکمل نہ ہونے سے شیرپرچیزاگریمنٹ (ایس پی اے)
میٹرو ریل کے حصول میں تاخیر،سرکاری خزانے پر یومیہ 2.5کروڑ سود کا بوجھ


حیدرآباد ،19 ستمبر(ہ س)۔

تلنگانہ حکومت کی جانب سے میٹروریل کے پہلے مرحلے کے حصول کا عمل مقررہ مہلت میں مکمل نہ ہونے کے باعث مزید تین ماہ کیلئے التواء کاشکارہوگیا ہے۔13,600 کروڑ روپئے کے بینک قرض کی وصولی مکمل نہ ہونے سے شیرپرچیزاگریمنٹ (ایس پی اے) کے حتمی مرحلے پر بندش نہیں ہوسکی۔اس تاخیرکی بدولت حکومت تلنگانہ کوروزانہ کروڑہا روپئے کاسود برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ حکومت اورایل اینڈ ٹی حیدرآباد میٹروریل لمٹیڈ کے درمیان میٹروکے پہلے مرحلے میں ایل اینڈ ٹی کی تمام حصص خریدنے جاریہ سال 29 اپریل کو شیرپرچیزایگریمنٹ پردستخط کئے تھے جس کی جملہ مالیت 1461.47 کروڑ طئے پائی تھی ۔ ایل اینڈ ٹی نے سیبی کوابتدائی طور پرآگاہ کیا تھا کہ یہ مالیاتی منتقلی 30 جون تک مکمل ہوجائیگی ۔تاہم قرض کی منظوری میں تاخیر پر سیبی کی جانب سے 30 ستمبر کی نئی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔میٹرو حکام کا کہنا ہے کہ اس مقررہ تاریخ تک عمل مکمل ہونا ممکن نہیں ہے،لہذا مزید 3ماہ کی توسیع ناگزیرہوچکی ہے۔ معاہدہ کی شرائط کے تحت جس دن سے ایل اینڈ ٹی سے خریدی کامعاہدہ ہوا ہے ، اس دن سے قرضوں پرسود کا تمام بوجھ ریاستی حکومت پرعائد ہوچکا ہے ۔حکومت کواس تاخیر سے روزآنہ 2.5کروڑ روپئے کا بھاری سود ادا کرنا پڑرہاہے۔ حکومت کو اُمید ہے کہ اگر ایس بی آئی کیاپ اورمیٹروحکام 4فیصد سے کم شرح سود پرنیا قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ یومیہ سود نصف تک گھٹ جائے گااورمیٹرو پروجیکٹ خسارے سے نکل کرمنافع بخش ادارے میں تبدیل ہوجائے گا ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande