
بلیا، 19 ستمبر(ہ س)۔ اترپردیش کے بلیا ضلع کے رسڑا تھانہ علاقے کے مصطفی آباد میں 16 ستمبر کی رات ماں بیٹی کے قتل کے معاملے کا پولیس نے ہفتہ کے روز انکشاف کر دیا۔ سوات، سرویلانس اور رسڑا تھانہ پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے مقتولہ مانتی دیوی کے شوہر رام چیج گپتا سمیت تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس کی بیوی کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی جبکہ بیٹی نابینا تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ ان حالات کی وجہ سے خاندان کی سماجی حیثیت اور وقار متاثر ہوگا، اسی بنا پر اس نے بیوی اور بیٹی کے قتل کی سازش رچی۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) دنیش شکلا نے بتایا کہ 17 ستمبر کو رام چیج گپتا کی تحریر پر اس کی بیوی اور بیٹی کے قتل کے معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ شکایت میں بتایا گیا تھا کہ جب وہ بازار سے گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی مانتی دیوی کی لاش پڑی ہوئی ہے، جبکہ بیٹی گوری لاپتہ تھی۔ تلاش کے دوران گوری کی لاش گھر کے قریب واقع کھیت سے برآمد ہوئی۔
پولیس نے تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کے دوران رام چیج گپتا کے کردار کو مشتبہ پایا۔ اس کے بعد پولیس نے اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی، جس کے دوران رام چیج نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
پولیس کے مطابق رام چیج نے بتایا کہ اس نے مصطفی آباد کے رہنے والے چندن یادو اور دنیش گپتا کو اپنی صورتحال سے آگاہ کیا اور ان کے ساتھ مل کر بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ 16 ستمبر کی شام تقریباً سات بجے تینوں نے مبینہ طور پر واردات کو انجام دیا۔قتل کے بعد گوری کی لاش کو کھیت میں رکھ دیا گیا، جبکہ گھر میں پھیلے خون کو صاف کرکے واردات کو کسی نامعلوم شخص کی جانب سے کیے گئے قتل کا روپ دینے کی کوشش کی گئی۔
اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے ہفتہ کی صبح تقریباً ساڑھے تین بجے سدھا گر گھاٹ سے رام چیج گپتا (70) کی نشاندہی پر چندن یادو اور دنیش گپتا کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والا لوہے کا راڈ اور واردات کے وقت پہنے گئے دو جوڑے کپڑے بھی برآمد کیے ہیں۔پولیس نے کارروائی مکمل کرنے کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan