لکھنؤ میں امریکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے گروہ کا پردہ فاش، 16 گرفتار
لکھنو¿، 19 ستمبر (ہ س)۔ اتر پردیش کی لکھنؤ کمشنریٹ پولیس نے ہفتہ کے روز بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے سائبر فراڈ کے ایک معاملے کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس گروہ میں شامل کل 16 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں چار خواتین اور 12 مرد شامل ہیں۔ ا
لکھنو¿ میں امریکی شہریوں سے سائبر فراڈ کرنے والے گروہ کا پردہ فاش، 16 گرفتار


لکھنو¿، 19 ستمبر (ہ س)۔

اتر پردیش کی لکھنؤ کمشنریٹ پولیس نے ہفتہ کے روز بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے سائبر فراڈ کے ایک معاملے کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس گروہ میں شامل کل 16 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں چار خواتین اور 12 مرد شامل ہیں۔ ان کے قبضے سے 36 لیپ ٹاپ سمیت دیگر اشیا برآمد کی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (شمالی) امیت کمار آنند نے ہفتہ کے روز اپنے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سائبر فراڈ کے اس معاملے کا انکشاف کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی رات علی گنج پولیس علاقے میں گشت کر رہی تھی۔ اسی دوران ردھیا پلازا کے قریب ایک مشتبہ شخص نظر آیا۔ پولیس ٹیم نے اسے روک کر پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا کہ وہ ردھیا پلازا میں کام کرتا ہے۔

رات کا وقت ہونے کی وجہ سے پولیس ٹیم کو اس شخص کے بیان اور سرگرمیوں پر شک ہوا۔ اس کے بعد پولیس نے ردھیا پلازا میں واقع احاطے کی تلاشی لی، جہاں ایک کال سینٹر چلتا ہوا پایا گیا۔ اس کال سینٹر میں سائبر فراڈ کا غیر قانونی کاروبار کیا جا رہا تھا۔

اضافی پولیس فورس کی مدد سے پورے سینٹر کو گھیرے میں لے کر وہاں سے 12 مردوں اور چار خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔

یہ لوگ سائبر فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم گفٹ کارڈ، بینک ٹرانسفر اور کرپٹو کرنسی وغیرہ کے ذریعے وصول کرتے تھے۔ کال سینٹر کا انتظام و انصرام مرکزی ملزم پریانشو کر رہا تھا، جو فی الحال فرار ہے۔

ملزمان نہال اور آشیش اس کے ماتحت کام کرتے تھے اور کال سینٹر کے انتظام و انصرام میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ یہی لوگ اس کام کے لیے ایسی لڑکیوں اور لڑکوں کو ملازمت پر رکھتے تھے، جو انگریزی اچھی طرح بول سکتے ہوں۔

انتخاب کے بعد انہیں اس کام کی تربیت دی جاتی تھی۔ ان ملازمین کو ماہانہ 18 ہزار سے 30 ہزار روپے تنخواہ دینے کے ساتھ ساتھ کھانے پینے اور رہائش کی سہولت بھی مفت فراہم کی جاتی تھی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande