وزیر اعلیٰ کی رضامندی کے بغیر بھرتی امتحان میں بے ضابطگی ممکن نہیں: بابولال مرانڈی
رانچی، 19 ستمبر (ہ س):۔ جھارکھنڈ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان کے معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل کیے گئے نئے حلف نامے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اب پورے امت
وزیر اعلیٰ کی رضامندی کے بغیر بھرتی امتحان میں بے ضابطگی ممکن نہیں: بابولال مرانڈی


رانچی، 19 ستمبر (ہ س):۔

جھارکھنڈ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان کے معاملے میں ریاستی حکومت کی جانب سے ہائی کورٹ میں داخل کیے گئے نئے حلف نامے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اب پورے امتحانی عمل کو بدعنوانیوں سے متاثر قرار دے رہی ہے تو پہلے داخل کیے گئے حلف ناموں اور اس وقت کی تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بھی جواب دہی طے کی جانی چاہیے۔

مرانڈی نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے سوال کیا کہ ذمہ داری صرف نچلی سطح کے لوگوں تک محدود کیوں رہے اور اعلیٰ افسران کے کردار کی بھی جانچ کیوں نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے جمعے کے روز ہائی کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامے میں جے ایس ایس سی-سی جی ایل امتحان کے پورے عمل کو بدعنوانیوں سے متاثر قرار دیا ہے۔ جب حکومت خود اب امتحانی عمل پر سوال اٹھا رہی ہے تو یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ پہلے عدالت کے سامنے تمام حقائق کیوں نہیں رکھے گئے تھے۔

بابولال نے کہا کہ اگر حکومت اب پورے عمل کو ناقص اور بدعنوانیوں سے متاثر مان رہی ہے تو سدھیر گپتا، انوراگ گپتا، پرشانت کمار اور منوج کوشک کے کردار اور جواب دہی کی بھی تحقیقات ہونی چاہیئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ پہلے عدالت کے سامنے تمام حقائق کیوں نہیں رکھے گئے اور کیا اس وقت عدالت کو مکمل معلومات فراہم کی گئی تھیں؟

قائد حزب اختلاف نے الزام عائد کیا کہ تحقیقات کو پہلے غلط سمت میں لے جانے اور امتحان میں بے ضابطگی نہ ہونے کا دعویٰ کرنے کے ذمہ دار لوگوں سے بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس سلسلے میں حلف نامہ کس کے کہنے پر اور کس کو بچانے کے لیے داخل کیا گیا تھا۔ انہوں نے تحقیقات میں انوراگ گپتا کے کردار اور بعد میں عدالت کے سامنے پیش کی گئی معلومات کے حوالے سے منوج کوشک کی جواب دہی پر بھی سوالات اٹھائے۔

مرانڈی نے سوال کیا کہ اتنا بڑا بھرتی گھوٹالا صرف نچلی سطح کے ملازمین کی سطح پر کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اگر بھرتی کے نظام کو نچلی سطح کے لوگ ہی چلا رہے تھے تو چیئرمین اور سکریٹری جیسے عہدوں پر فائز افراد کی ذمہ داری کیا تھی؟ انہوں نے کہا کہ اختیارات اور سہولتیں اعلیٰ سطح پر رہیں، لیکن جواب دہی کے وقت صرف نچلی سطح کے لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے، یہ مناسب نہیں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande