پارٹی تبدیلی معاملہ: دانم ناگیندرایم ایل اے کے عہدے کے لیے نااہل : تلنگانہ ہائی کورٹ
حیدرآباد ،18 ستمبر(ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج جمعہ کوخیریت آباد کے ایم ایل اے دانم ناگیندرکو23 اپریل 2024 سے قانون سازاسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قراردے دیا۔ عدالت نے اسمبلی اسپیکرگڈم پرساد کمارکے اس حکم کو کالعدم قراردیاجس کے تحت نااہلی کی د
پارٹی  تبدیلی معاملہ: دانم ناگیندرایم ایل اے کے عہدے کے لیے نااہل : تلنگانہ ہائی کورٹ


حیدرآباد ،18 ستمبر(ہ س)۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے آج جمعہ کوخیریت آباد کے ایم ایل اے دانم ناگیندرکو23 اپریل 2024 سے قانون سازاسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قراردے دیا۔ عدالت نے اسمبلی اسپیکرگڈم پرساد کمارکے اس حکم کو کالعدم قراردیاجس کے تحت نااہلی کی درخواستوں کو مسترد کردیا گیاتھا۔ چیف جسٹس اپریش کمارسنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پرمشتمل بنچ،جس نے 21 اگست کواپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا،نےناگیندر‘انسدادِ انحراف قانون’کے تحت نااہل قرارپائے ہیں۔ یہ نااہلی اس لیے ہوئی کیونکہ انہوں نے بھارت راشٹرسمیتی(بی آرایس)کے ٹکٹ پرمنتخب ایم ایل اے کے طورپربرقراررہتے ہوئے کانگریس کے ٹکٹ پر2024 کا سکندرآباد لوک سبھا انتخاب لڑا تھا۔ جماعت کی تبدیلی کاعمل جو2023 میں شروع ہوا۔ناگیندردسمبر2023 میں بی آرایس کے ٹکٹ پرخیریت آباد سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ 2024 میں،انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیارکی اوربی آرایس یااپنی اسمبلی نشست سے استعفیٰ دئیے بغیرکانگریس کے ٹکٹ پرسکندرآباد لوک سبھا نشست کاانتخاب لڑا۔ وہ لوک سبھاکا انتخاب توہارگئے،لیکن بی آرایس کے رکن کی حیثیت سے ایم ایل اے کی نشست برقراررکھتے ہوئے کانگریس امیدوارکے طورپرانتخاب لڑنے کے ان کے فیصلے پرشدید تنقید ہوئی اوریہی فیصلہ ان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں کی بنیادبنا۔ ہائی کورٹ میں یہ درخواستیں بی آرایس کے حضورآباد سے ایم ایل اے پی کوشک ریڈی اور بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی) کے نرمل سے ایم ایل اے الیٹی مہیشورریڈی نے دائرکی تھیں۔دونوں نے اسپیکرکے 11 مارچ کے اس حکم کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیاتھا جس میں ناگیندرکے خلاف کیس کوخارج کردیا گیاتھا۔ درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ ناگیندرآئین کے دسویں شیڈول کے پیراگراف 2(1)(اے)کے تحت نااہلی کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے بی آرایس رکن کے طورپرحاصل کردہ نشست چھوڑے بغیرکسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پرانتخاب لڑاتھا۔ 2024 سے جاری طویل قانونی جنگ ناگیندران 10 بی آرایس ارکانِ اسمبلی میں شامل تھے جنہوں نے مارچ اور اگست 2024 کے درمیان کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے ساتھ کادیام سری ہری،پوچارم سری نواس ریڈی، ٹیلّم وینکٹ راؤ، ایم سنجے کمار،اریکا پوڈی گاندھی، ٹی پرکاش گوڈ،بی کرشنا موہن ریڈی،کالے یادیااورگوڈم مہی پال ریڈی بھی شامل تھے۔ بی آرایس نے سب سے پہلے اپریل 2024 میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا اورمؤقف اختیارکیا کہ اسپیکرکا دفتر ناگیندراوردیگردوارکانِ اسمبلی کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کررہا ہے۔21 اگست کو بنچ نے ناگیندرکے مقدمے میں فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ باقی آٹھ ارکانِ اسمبلی سے متعلق درخواستوں پر دلائل کا سلسلہ جاری رکھا، جن پرابھی فیصلہ ہوناباقی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande