
نئی دہلی، 17 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے پوچھا ہے کہ ریزرویشن اور یو جی سی کے قوانین کے خلاف جنتر منتر پر کرنی سینا کو احتجاج کرنے سے مکمل طور پر کیسے روکا جا سکتا ہے۔ جسٹس سورن کانتا شرما نے کرنی سینا کی عرضی پر سماعت کے دوران دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) چیتن شرما سے یہ سوال کیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 22 ستمبر کو ہوگی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے پیش وکیل نے کہا کہ دہلی پولیس نے اسے 20 ستمبر کو احتجاج کی اجازت دے دی تھی، لیکن 15 ستمبر کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا کہ احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔ اس پر عدالت نے دہلی پولیس کی جانب سے پیش اے ایس جی چیتن شرما سے پوچھا کہ ایسا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ کیا صرف اس اندازے کی بنیاد پر کہ کچھ لوگ جمع ہوں گے، آپ احتجاج کی اجازت نہیں دیں گے؟
عدالت نے کہا کہ گزشتہ سماعت کے دوران ہم نے واضح طور پر کہا تھا کہ آپ شرائط عائد کرکے احتجاج کی اجازت دے دیجئے۔ مظاہرین احتجاجی مقام پر چند گھنٹے رہیں گے اور وہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔ آپ انہیں احتجاج سے منع نہیں کر سکتے۔ اس پر چیتن شرما نے کہا کہ دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کے احکامات اور رہنما اصولوں کے مطابق ہی فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنتر منتر ایک حساس علاقہ ہے۔ دہلی پولیس نے صرف کرنی سینا کو ہی اجازت دینے سے انکار نہیں کیا بلکہ دیگر تنظیموں کو بھی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ کرنی سینا کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد کافی زیادہ ہے اور بڑی تعداد میں لوگ احتجاج میں آ سکتے ہیں۔ اس پر کرنی سینا کی جانب سے کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر ویورشپ ہمیشہ جنتر منتر پر لوگوں کی آمد میں تبدیل نہیں ہوسکتی ہے ۔
کرنی سینا کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ علاقے پر دہلی پولیس کا خاصا کنٹرول ہے۔ اس پر عدالت نے چیتن شرما سے پوچھا کہ کیا احتجاج کی اجازت کسی دوسرے مقام پر دی جا سکتی ہے؟ شرما نے کہا کہ احتجاج کی جگہ تبدیل کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے 22 ستمبر تک اس معاملے پر عدالت کو مطلع کرنے کا حکم دیا۔
اس سے قبل 7 ستمبر کو ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے کہا تھا کہ وہ جنتر منتر پر ریزرویشن اور یو جی سی کے قوانین کے خلاف احتجاج کی اجازت دینے کے معاملے پر 14 ستمبر تک فیصلہ کرے۔ کشتریہ کرنی سینا 20 ستمبر کو جنتر منتر پر احتجاج کرنا چاہتی ہے۔ عدالت نے کشتریہ کرنی سینا سے کہا تھا کہ وہ پولیس کو اپنی درخواست دے۔ پولیس 14 ستمبر تک اس پر فیصلہ کرکے تنظیم کو مطلع کرے گی۔ پولیس احتجاج کے حوالے سے جو بھی شرائط عائد کرنا چاہے، عائد کر سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد