آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہونے سے دنیا بھر میں کھاد کی قلت
ماسکو، 17 ستمبر (ہ س/ریا نووستی):۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث بحری آمد و رفت متاثر ہونے سے دنیا بھر میں کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں توانائی کے
آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہونے سے دنیا بھر میں کھاد کی قلت


ماسکو، 17 ستمبر (ہ س/ریا نووستی):۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث بحری آمد و رفت متاثر ہونے سے دنیا بھر میں کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں توانائی کے شعبے سمیت عالمی منڈی کی صورتِ حال بھی تشویش ناک ہو گئی ہے۔

روس میں ایف اے او کے رابطہ دفتر کے ڈائریکٹر اولیگ کوبیاکوف نے ریا نووستی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ کے باعث دنیا بھر میں کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور توانائی کے شعبے سمیت مختلف منڈیوں کی صورتِ حال بگڑ رہی ہے۔

کوبیاکوف نے کہا، ”آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ کے باعث دنیا بھر میں کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اس سے کھاد کی منڈی کی صورتِ حال خراب ہو رہی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق بحران اب ”کچھ عرصے کے لیے پیدا ہونے والی کشیدگی“ تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایک بڑے اور طویل مدتی مسئلے میں تبدیل ہو گیا ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں مختلف ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی حملے کیے گئے۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے جنگ بندی کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، تاہم بعد میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے کیے گئے۔ فی الحال یہ تنازع حل نہیں ہو سکا ہے۔

تنازع شدت اختیار کرنے کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً ٹھپ ہو گئی ہے۔ یہ آبنائے عالمی منڈی میں خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande