
نئی دہلی، 15 ستمبر (ہ س)۔ تقریباً چھ دہائیوں سے زیر التوا کشاؤ کثیر مقاصد منصوبے میں منگل کو اہم پیش رفت ہونے جا رہی ہے۔ نئی دہلی کے کرتویہ بھون میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں اس منصوبے کو لے کر چھ ریاستوں کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اجلاس میں مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی آر پاٹل کے ساتھ ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش اور ہریانہ کے وزرائے اعلیٰ موجود رہیں گے، جبکہ راجستھان اور قومی دارالحکومت دہلی بھی اس معاہدے کے اہم فریق ہیں۔
کانگریس زیر اقتدار ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو بھی شملہ سے دہلی روانہ ہو چکے ہیں اور اس میٹنگ میں شامل ہوں گے۔ ہماچل حکومت کے لیے یہ مفاہمت نامہ ایک اہم کامیابی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ مرکزی حکومت نے ریاست کے اہم مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے منصوبے کے آبی حصے کی لاگت کا 90 فیصد حصہ برداشت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس سے ہماچل پر پڑنے والا مالی بوجھ کافی کم ہو جائے گا۔
کشاؤ منصوبہ ٹونس ندی پر مجوزہ ہے۔ اس منصوبے سے تقریباً 660 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی کی سہولت تیار کی جانی ہے۔ منصوبے کی اندازاً لاگت تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے ہے۔ اس میں تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے بجلی کے حصے سے متعلق ہیں، جبکہ آبی حصے کی بڑی لاگت مرکزی حکومت برداشت کرے گی۔
مجوزہ بندوبست کے تحت ہماچل پردیش کے حصے کے پانی کا استعمال دہلی اور راجستھان سمیت متعلقہ ریاستوں میں کیا جائے گا۔ اس کے بدلے بجلی منصوبے کی لاگت میں متعلقہ ریاستوں کی مالی شراکت داری طے کی جائے گی۔ اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی کے درمیان اس معاہدے سے پانی اور بجلی کی تقسیم کا نیا نظام تیار ہوگا۔
کشاؤ منصوبہ طویل عرصے سے بین ریاستی رضامندی اور مالی انتظامات کے فقدان کے باعث رکا ہوا تھا۔ جون میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد منصوبے کو لے کر ریاستوں کے درمیان اتفاق رائے قائم ہوا تھا۔ اب منگل کو ہونے والا مفاہمت نامہ اس اتفاق رائے کو باضابطہ شکل دے گا۔
منصوبے کے عملی شکل اختیار کرنے سے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں بجلی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ دہلی، راجستھان، ہریانہ اور اتر پردیش میں آبپاشی اور پانی کی فراہمی کو مضبوطی ملنے کی امید ہے۔ اس سے بڑی تعداد میں کسانوں اور عوام کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو منگل کو دہلی میں مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد بدھ کی صبح اونا پہنچیں گے۔ یہاں 16 ستمبر کو مجوزہ اینٹی چِٹا واک تھون میں شرکت کریں گے۔ یہ پروگرام پہلے تین مرتبہ ملتوی ہو چکا ہے۔
اس کے بعد 18 ستمبر کو وزیر اعلیٰ اپنے اسمبلی حلقہ نادون کے دورے پر رہیں گے۔ صبح تقریباً 11:30 بجے وہ چمرال پنچایت کے دریال گاؤں میں سدھوڑہ پتن پل کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد