
نئی دہلی، 14 ستمبر (ہ س)۔ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) نے پاکستان سے درآمد پر عائد پابندی کو نظرانداز کرنے کی کوشش کا پردہ فاش کرتے ہوئے پاکستان سے منسلک 362 میٹرک ٹن سے زائد چھوہارے ضبط کیے ہیں۔ یہ کارروائی ڈی آر آئی کے خصوصی آپریشن ’آپریشن ڈیپ مینی فیسٹ‘ کے تحت کی گئی۔
وزارت خزانہ نے پیر کو بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ڈی آر آئی کے افسران نے ناسک کے امباڈ واقع کنٹینر فریٹ اسٹیشن پر ممبئی کی ایک کمپنی کی جانب سے درآمد کیے گئے چھوہاروں سے بھرے 13 کنٹینرز کو روکا۔ درآمد سے متعلق دستاویزات میں سامان کا اصل ملک متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بتایا گیا تھا۔
ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا کہ سامان کے اصل ماخذ کو چھپانے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے ٹرانس شپمنٹ کا سہارا لیا گیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق، یہ چھوہارے پہلے پاکستان کی کراچی بندرگاہ سے یو اے ای کی جبل علی بندرگاہ بھیجے گئے۔ اس کے بعد وہاں سامان کو صرف دوسرے کنٹینرز میں منتقل کرکے بھارت بھیج دیا گیا۔
تفتیش میں یہ بھی پتہ چلا کہ اس پورے عمل میں پاکستانی شہریوں کے زیر انتظام بعض اداروں کا کردار تھا۔ ڈی آر آئی نے دستاویزات اور سامان کی حقیقی اصل کے درمیان فرق کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کھیپ ضبط کرلی اور مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق، پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ہند نے 2 مئی 2025 سے پاکستان سے آنے والے یا پاکستان سے منسوب تمام سامان کی براہ راست اور بالواسطہ درآمد اور ٹرانزٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان سے منسوب سامان کو تیسرے ممالک کے راستے بھارت لاکر پابندی سے بچنے کی کوششوں پر نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ڈی آر آئی ’آپریشن ڈیپ مینی فیسٹ‘ کے تحت ایسے سامان کی شناخت، روک تھام اور ضبطی کی کارروائی کر رہا ہے۔
ڈی آر آئی کے مطابق، غلط اعلان، ٹرانس شپمنٹ اور دستاویزات میں ردوبدل کے ذریعے تجارتی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ایجنسی نے کہا کہ ناسک میں کی گئی یہ کارروائی ممنوعہ اشیا کی بالواسطہ درآمد روکنے اور کسٹمز قوانین کی مؤثر تعمیل یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد