ساگر زہریلی شراب سانحہ: 30 ہزار کا انعامی ملزم شیوانجے گرفتار، تصادم میں پیر میں گولی لگی
ساگر، 13 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر کے بنڈا زہریلی شراب سانحے میں مفرور 30 ہزار روپے کے انعامی ملزم شیوانجے راجپوت کو پولیس نے اتوار کی علی الصبح مقابلے کے بعد گرفتار کر لیا۔ بہرول تھانہ علاقے کے کٹھوا نالہ کے قریب جنگل میں کی گئی کارروائ
30 ہزار کا انعامی ملزم شیوانجے


ملزم کو علاج کے لیے اسپتال پہنچایا گیا۔


ساگر، 13 ستمبر (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر کے بنڈا زہریلی شراب سانحے میں مفرور 30 ہزار روپے کے انعامی ملزم شیوانجے راجپوت کو پولیس نے اتوار کی علی الصبح مقابلے کے بعد گرفتار کر لیا۔ بہرول تھانہ علاقے کے کٹھوا نالہ کے قریب جنگل میں کی گئی کارروائی کے دوران ملزم نے پولیس ٹیم پر تین فائر کیے۔ جوابی کارروائی میں اس کے پیر میں گولی لگی۔ زخمی ملزم کو علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق، اتوار کی علی الصبح اطلاع ملی تھی کہ بنڈا شراب معاملے میں مفرور شیوانجے راجپوت (21 سال) کٹھوا نالہ کے قریب جنگل میں موجود ہے اور دھامونی-بہرول راستے سے اپنے گاوں چھاپری کی طرف جا سکتا ہے۔ اطلاع کے بعد باندری تھانہ انچارج ستیندر سنگھ اور بہرول تھانہ انچارج دھرمیندر سنگھ پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ جنگل اور آس پاس کے علاقے کی گھیرا بندی کر کے سرچنگ شروع کی گئی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ سرچنگ کے دوران ٹیم کا سامنا شیوانجے سے ہوا۔ پولیس کو دیکھتے ہی اس نے فائرنگ شروع کر دی۔ ملزم نے تین راونڈ فائر کیے۔ اس کے بعد پولیس نے اپنے دفاع میں دو راونڈ جوابی فائر کیے، جس میں ایک گولی ملزم کے پیر میں لگی۔ پولیس نے اسے موقع سے گرفتار کر لیا اور علاج کے لیے اسپتال پہنچایا۔

پولیس نے ملزم کے قبضے سے 315 بور کا دیسی طمنچہ، تین زندہ کارتوس، تین خالی خول، موبائل فون اور موٹر سائیکل برآمد کی ہے۔ پولیس کے مطابق بنڈا کے چھاپری گاؤں کا رہائشی شیوانجے شراب سانحے کے بنیادی ملزم چندربھان سنگھ راجپوت عرف چندو کا رشتہ دار ہے۔ اس سنڈیکیٹ کی غیر قانونی شراب کی سپلائی میں اس کا بڑا کردار تھا۔ پولیس نے اس کی گرفتاری پر 30 ہزار کا انعام رکھا تھا۔ شیوانجے کے خلاف پہلے سے تین مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔

بنڈا زہریلی شراب سانحے میں یہ دوسرا واقعہ ہے، جب کسی مفرور ملزم کو پولیس نے مقابلے کے بعد گرفتار کیا ہے۔ اس سے قبل روی لکھیرا کو بھی پولیس نے مقابلے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے معاملے سے وابستہ دیگر ملزمان کی تلاش اور غیر قانونی شراب کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ لوگوں کے درمیان چہ مگوئیاں ہیں کہ ساگر میں زہریلی شراب پینے سے اب تک 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم انتظامیہ نے 18 اموات کی ہی تصدیق کی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande