
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 12 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران ”جامع عالمی حکمرانی اور کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانا“ کے موضوع پر منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل ساو¿تھ آج دنیا میں پیدا ہونے والے بحرانوں کی صفِ اول میں ہے، لیکن فیصلہ سازی کے عمل میں پیچھے ہے۔ عالمی حکمرانی کے نظام کو موجودہ عالمی حقائق کے مطابق ڈھالتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو فیصلہ سازی کے عمل میں زیادہ نمائندگی دینا ضروری ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گلوبل ساو¿تھ کو صرف قواعد پر عمل کرنے والا فریق نہیں بلکہ قواعد بنانے میں کردار ادا کرنے والا فریق بنانا ہوگا۔ انہوں نے خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جیسی عالمی اداروں میں گلوبل ساو¿تھ کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ برکس کے ذریعے گلوبل ساو¿تھ کے نوجوان سفارت کاروں اور پالیسی سازوں کو مذاکراتی صلاحیت، عملی تربیت اور قانونی مہارت فراہم کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے سمندری تجارت میں جہاز رانی سے وابستہ افراد (ملاحوں) کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود بحران کے وقت ملاحوں کو مناسب مدد نہیں ملتی۔ اس کے لیے انہوں نے ”سی فیئررز ایمرجنسی سپورٹ نیٹ ورک“ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل سب کا مشترکہ ہے، اس لیے اس مستقبل کو تشکیل دینے کا حق بھی سب کا مشترکہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی نظام میں صرف آواز تک محدود رہنے کے بجائے اثر و رسوخ اور مراعات میں شراکت داری کی جانب بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر نئی دہلی برکس رہنماو¿ں کے اعلامیے کو منظور کیا گیا۔ اس میں برکس تعاون کے لیے مشترکہ ترجیحات، عہد و پیمان اور مستقبل کی سمت کو واضح کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی