پاکستان کی ٹیسٹ کوچنگ پر مائیک ہیسن بولے— موقع ملا تو ذمہ داری سنبھالنے کو تیار
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو وہ اس کام کو انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ہیسن نے واضح کیا کہ فی الحال ان کی پوری توج
پاکستان کی ٹیسٹ کوچنگ پر مائیک ہیسن بولے— موقع ملا تو ذمہ داری سنبھالنے کو تیار


نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو وہ اس کام کو انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ہیسن نے واضح کیا کہ فی الحال ان کی پوری توجہ پاکستان کی محدود اوورز کی ٹیم پر ہے۔

ہیسن کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ سیریز کے تیسرے ٹیسٹ سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے سرفراز احمد کو کوچنگ کی ذمہ داری سے ہٹا دیا تھا اور سات کھلاڑیوں کو بھی وطن واپس بھیج دیا تھا۔ انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کو 0-3 سے کلین سویپ کا سامنا کرنا پڑا۔

کرک بز کے مطابق، ایجبسٹن ٹیسٹ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیسن نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا مستقل کوچ بننے کے بارے میں سنجیدگی سے غور نہیں کیا ہے، تاہم اگر ایسا موقع ملتا ہے تو انہیں اس ذمہ داری کو قبول کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا، ”میں نے ابھی تک اس بارے میں سوچا بھی نہیں ہے۔ ابھی ایشیائی کھیل شروع ہونے والے ہیں اور وائٹ بال کرکٹ کے لحاظ سے فی الحال میری پوری توجہ اسی پر ہے۔ جب وہ وقت آئے گا، تب تک مجھے یقین ہے کہ ہم ٹیسٹ ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے کچھ بات چیت کر چکے ہوں گے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”مجھے ٹیسٹ کرکٹ بہت پسند ہے اور مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کے نظام میں کافی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ہم ان کھلاڑیوں کو صحیح سمت دکھا سکیں تو ہم بہت آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا ایک دو میچوں میں نہیں ہوگا۔ پھر بھی، میرے خیال میں وہاں کچھ ایسا ہنر موجود ہے جس پر میں ضرور توجہ دینا چاہوں گا۔“

ہیسن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نیوزی لینڈ سیریز کے بعد انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ان سے ٹیسٹ ٹیم کا کوچ بننے کے حوالے سے رابطہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی موجودہ ذمہ داری کو ترجیح دی۔

ہیسن نے بتایا کہ ان کے ایجنٹ نے انگلینڈ کی جانب سے موصول ہونے والی پیشکش کے سلسلے میں ان سے بات کی تھی، لیکن انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنی موجودہ مدتِ کار مکمل کرنے کے لیے پ±رعزم ہیں۔

ہیسن نے یہ بھی کہا کہ وہ محض ملازمت حاصل کرنے کے لیے ملازمت کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا، ”میں نے کبھی اس طرح کام نہیں کیا۔ جن عہدوں پر میں نے کام کیا ہے، ان میں سے زیادہ تر پر میں نے پانچ سے چھ سال گزارے ہیں۔ میں ایک کام مکمل کرتا ہوں، پھر تھوڑا وقفہ لیتا ہوں، خود کو تازہ دم کرتا ہوں اور اس کے بعد کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہی میرے کام کرنے کا طریقہ ہے۔“

انگلینڈ کا دورہ پاکستان کے لیے انتہائی مایوس کن رہا اور ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ایجبسٹن میں پاکستان کی کارکردگی میں کچھ مثبت پہلو بھی نظر آئے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande