
نئی دہلی،13ستمبر(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو مبینہ طور پر میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق یہ واقعہ آج صبح آبنائے ہرمز میں پیش آیا، تاہم حملے کے نتیجے میں جہاز یا اس پر موجود عملے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔برطانوی میری ٹائم حکام کی جانب سے جاری ابتدائی اطلاع میں حملے کی نوعیت اور اس میں استعمال ہونے والے میزائل سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جہازوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں کی سکیورٹی کے حوالے سے امریکا نے بھی نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض آئل ٹینکرز کو مخصوص اوقات میں سفر کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ان جہازوں کے لیے فضائی دفاع سے متعلق دستیاب اوقات بھی محدود کر دیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ رات کے اوقات میں ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد کیا گیا۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی فوجی کشیدگی کا عالمی تیل کی سپلائی اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
حالیہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے۔ تاہم میزائل حملے کے بارے میں مزید تفصیلات اور اس کی ذمہ داری سے متعلق آزادانہ تصدیق کا انتظار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan