
نئی دہلی، 13 ستمبر (ہ س)۔ برکس رہنماوں نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مطالبے میں تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی شامل ہے۔ انہوں نے نوادرات کے ساتھ روحانی، آبائی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی حامل اشیاء کو ان کے اصل ملک واپس بھیجنے پر بھی زور دیا ہے۔
ہندوستان کی صدارت میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس کے پہلے دن منظور کیے گئے ’نئی دہلی اعلامیہ‘ میں گروپ نے برکس وزرائے ثقافت کے 11ویں اجلاس میں بھوپال اعلامیہ کو اپنائے جانے کا بھی خیر مقدم کیا۔ اس میں عوام کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے اور رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے میں ثقافت کے اہم کردار کی توثیق کی گئی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے دن کی بات چیت کے اختتام پر اس اعلامیے کی منظوری کا اعلان کیا۔ اس دوران چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن، ایران کے صدر مسعود پزیشکیان، ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید آل نہیان اور گروپ کے دیگر اعلیٰ رہنما موجود رہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے، ’’ہم تنازعات سے متاثرہ خطوں سمیت تمام علاقوں میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں، تاکہ ثقافتی املاک کی تباہی اور غیر قانونی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔ یہ متاثرہ طبقات کی تاریخ اور شناخت کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ہم ثقافتی ورثے، نوادرات نیز روحانی، آبائی، تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی حامل اشیاء کو ان کے اصل ملک واپس کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔‘‘
رہنماوں نے عجائب گھروں، آرکائیوز، لائبریریوں اور دیگر متعلقہ ثقافتی اداروں کے مابین معلومات، دستاویزات کے تبادلے اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے برکس ممالک کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی بھی بات کہی۔ نئی دہلی اعلامیے میں کہا گیا ہے، ’’ہم ثقافتی اور تخلیقی صنعتوں میں معلومات کے تبادلے اور بہترین طریقوں کو شیئر کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس میں فنکاروں اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد کی تربیت اور صلاحیتوں کو نکھارنے کے شعبے بھی شامل ہیں۔‘‘
اعلامیے میں کہا گیا ہے، ’’ہم یونیسکو کے متعلقہ کنونشنز اور پروگرامز کے تحت رضاکارانہ بنیادوں پر مشترکہ کثیر ملکی نامزدگیوں کے امکانات تلاش کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہم ثقافتی صنعتوں اور وسائل کی ترقی کے لیے متعلقہ کثیر فریقی پلیٹ فارمز سمیت برکس ممالک کے درمیان مزید باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘‘ رکن ممالک نے برکس کلچرل فیسٹیول اور ’ویوز بازار‘ کے انعقاد کا خیر مقدم کیا۔
برکس میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ سال 2024 میں مصر، ایتھوپیا، ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو شامل کیے جانے کے بعد اس میں توسیع ہوئی۔ انڈونیشیا 2025 میں اس میں شامل ہوا۔ بیلاروس، بولیویا، قازقستان، کیوبا، ملائیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام گزشتہ برس برکس کے شراکت دار ممالک بنے۔
قابلِ ذکر ہے کہ برکس کے دو دہائی مکمل ہونے کے موقع پر 12 ستمبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران دو یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے۔ دونوں ڈاک ٹکٹ ہندوستان کی 2026 کی برکس کی صدارت کی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کا موضوع ہے: ’’استحکام، اختراع، باہمی تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر۔‘‘ ایک ڈاک ٹکٹ باہمی احترام، افہام و تفہیم اور یکجہتی کے جذبے والے پلیٹ فارم کے طور پر برکس کے ابھرنے کو ظاہر کرتا ہے، وہیں دوسرا ڈاک ٹکٹ ہندوستان کی صدارت کے ’انسانیت سب سے پہلے‘ اور ’عوام مرکوز‘ وژن اور لوگو کی عکاسی کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن