تلنگانہ اسمبلی میں کیوراربن بل 2026 کی منظوری
حیدرآباد ،13 ستمبر(ہ س)۔ حیدرآباد کے بلدیاتی و شہری حکمرانی میں ایک نئے اور جدید دورکا آغاز ہونے جارہا ہے ۔ ریاستی وزیرڈی سریدھربابو نے اسمبلی میں کیوراربن بل 2026 پیش کیا۔ یہ بل ایک شہر،ایک انتظامیہ،ایک قانون کے بنیادی فلسفے اورویژن کے تحت تیارک
تلنگانہ اسمبلی: وزیر سری دھر بابو نے’پرجا وشواس‘ترمیمی بل پیش کیا


حیدرآباد ،13 ستمبر(ہ س)۔

حیدرآباد کے بلدیاتی و شہری حکمرانی میں ایک نئے اور جدید دورکا آغاز ہونے جارہا ہے ۔ ریاستی وزیرڈی سریدھربابو نے اسمبلی میں کیوراربن بل 2026 پیش کیا۔ یہ بل ایک شہر،ایک انتظامیہ،ایک قانون کے بنیادی فلسفے اورویژن کے تحت تیارکیاگیا جس پر مباحث کے بعد بل کومنظوری حاصل ہوگئی۔حکومت نے 1955 جی ایچ ایم سی ایکٹ کوختم کرنے کےلیے اس جدید بل کونافذ کرنے کی قانونی تجویزپیش کی۔ ڈی سریدھربابو نے بل کی اہم تفصیلات پیش کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ نیا قانون حیدرآباد میٹروپولیٹن ریجن کی تین بڑی بلدیاتی کارپوریشنس جی ایچ ایم سی ، ایم این سی، سی ایم سی پریکساں طورپرلاگو ہوگا ۔ اس نئے بل میں 5 بنیادی حصے 43 ابواب 319 دفعات اور9 شیڈولس شامل ہیں ۔ اس قانون کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے انتظامیہ کو صرف بلدیاتی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں پولیس،حیڈرا،واٹربورڈ کے علاوہ دیگرتمام اہم محکموں کوایک ہی کورگورننس فریم ورک کا حصہ بنایا ہے۔ موجودہ جیایچایمسی ایکٹ 1955 میں وضع کیا گیا تھا جس کو14 فروری 1956 میں صدرجمہوریہ کی منظوری حاصل ہوئی تھی۔1955 کا قانون اس وقت کی محض 10سے15 لاکھ کی آبادی کومد نظررکھتے ہوئے بنایا گیا تھا جب کہ آج حیدرآباد کی آبادی بڑھ کر1.30 کروڑ تک پہونچ چکی ہے۔کوراربن کا علاقہ ریاست تلنگانہ کی اقتصادی ترقی کا سب سے اہم مرکزہے۔ جہاں پوری ریاست کی آبادی کا ایک تہائی حصہ رہتاہے۔ فی الوقت مختلف سرکاری محکموں اور اداروں کے درمیان باہمی تال میل نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں میں تاخیراورعوام کوپریشانی ہوتی ہے۔ نیابل تمام محکموں کوایک قانونی پلیٹ فارم پرلائے گا جس سے پیچیدہ مسائل کا تیزرفتارحل ممکن ہوگا۔ریاست وزیر سریدھر بابو نے کہا کہ اس بل کا بنیادی مقصد تمام سرکاری محکموں،کارپوریشن اوراداروں کوکیور کے قانونی دائرہ کار میں لاکرحیدرآباد کے شہریوں کوایک شفاف ، تیزرفتاراورعالمی معیار کا بہترین نظام حکومت فراہم کرنا ہے ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande