حوثی فوج کا دعویٰ—بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے بڑے حصے پر قبضہ، سعودی حمایت یافتہ سیکڑوں جنگجو ہلاک
صنعاء، 12 ستمبر (ہ س)۔ یمن میں سعودی عرب کے خلاف فوجی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یمن کی حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ قاسم سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے حدیدہ اور تعز صوبوں میں تقریباً 5,400 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور سعودی حم
حوثی فوج کا دعویٰ—بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے بڑے حصے پر قبضہ، سعودی حمایت یافتہ سیکڑوں جنگجو ہلاک


صنعاء، 12 ستمبر (ہ س)۔ یمن میں سعودی عرب کے خلاف فوجی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ یمن کی حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ قاسم سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے حدیدہ اور تعز صوبوں میں تقریباً 5,400 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور سعودی حمایت یافتہ سیکڑوں جنگجوؤں کو ہلاک یا زخمی کر دیا ہے۔ ترجمان نے باب المندیب کی جانب پیش قدمی اور سعودی فوجی اڈوں کے خلاف حملے تیز کرنے کی بھی وارننگ دی ہے۔

ایران کی سرکاری بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی کے مطابق، جمعہ کو ٹیلی ویژن پر دیے گئے بیان میں سریع نے کہا کہ یمنی فوج اور ’پاپولر کمیٹیز‘ سے وابستہ جنگجوؤں نے دونوں صوبوں کے چھ اضلاع سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کو پسپا کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں کی سات ڈویژنوں اور 38 بریگیڈز کو شکست دی گئی۔

سریع کے مطابق، لڑائی میں سیکڑوں جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ کئی دیگر کو حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوجی دستوں نے ان متعدد قیدیوں کو آزاد کرایا، جنہیں مبینہ طور پر سعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیرِ انتظام حراستی مراکز میں رکھا گیا تھا۔

یمنی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی یونٹوں نے 32 کارروائیاں کیں اور سعودی طیاروں کی دراندازی کو روکتے ہوئے نو طیارے مار گرائے۔ تاہم، ان دعوؤں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

سریع نے کہا کہ یمنی فوج بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے اپنی اعلان کردہ پالیسی پر قائم ہے۔ ان کے مطابق، سعودی عرب سے آنے والے جہازوں کے علاوہ دیگر جہازوں کو بحیرۂ احمر سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے اسے ’’محاصرے کے بدلے محاصرہ‘‘ کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک یمن کے خلاف فوجی کارروائی اور ناکہ بندی جاری رہے گی، سعودی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔

یمن میں تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے یمنی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائی شروع کی۔ اس تنازعہ میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں اور ملک طویل عرصے سے سنگین انسانی بحران کا شکار رہا ہے۔

حوثی فوج کے ترجمان کے تازہ دعوؤں کے درمیان خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔ حدیدہ اور باب المندیب آبنائے کا علاقہ اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ بحیرۂ احمر کے راستے بین الاقوامی بحری تجارت کے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande