
برمنگھم، 12 ستمبر (ہ س):۔
جو روٹ کی ناٹ آو¿ٹ 62 رنز کی کپتانی اننگز کی بدولت انگلینڈ نے ایجبسٹن میں ہفتہ کو پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز 3-0 سے اپنے نام کرلی۔
اس کے ساتھ ہی انگلینڈ نے اتار چڑھاو¿ سے بھرپور ایجبسٹن ٹیسٹ کا شاندار انداز میں اختتام کیا۔ پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 133 رنز پر سمٹ گئی تھی، جس کے جواب میں انگلینڈ نے 453 رنز بنائے اور پہلی اننگز کی بنیاد پر 320 رنز کی برتری حاصل کی۔ پاکستان نے دوسری اننگز میں 449 رنز بنائے۔
سیریز میں کلین سویپ کے لیے انگلینڈ کے سامنے 130 رنز کا ہدف تھا۔ تاہم چوتھے دن ہفتہ کی صبح محمد عباس نے پہلے ہی اوور میں انگلینڈ کے دونوں اوپنرز کو صفر پر آو¿ٹ کرکے ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا۔ اس کے بعد روٹ اور جارڈن کاکس نے ذمہ داری سنبھالی اور ناٹ آو¿ٹ 128 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کو آسانی سے فتح تک پہنچا دیا۔
روٹ کو اپنی اننگز کے دوران دو مرتبہ زندگی ملی، انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ناقابلِ شکست 62 رنز بنائے۔ دوسری جانب کاکس نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ابتدائی سفر کو مضبوط بناتے ہوئے ناٹ آو¿ٹ 59 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ کاکس نے فاتحانہ رن بھی حاصل کیا، جو مس فیلڈ کی وجہ سے آیا اور پاکستان کے اس دورے میں ہونے والی غلطیوں کی ایک اور مثال بن گیا۔
انگلینڈ کی یہ فتح 2024 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 3-0 کی کامیابی کے بعد اس کی سب سے بڑی ٹیسٹ سیریز کامیابی ہے۔ بین اسٹوکس کے اچانک ریٹائرمنٹ کے بعد ٹیم کی قیادت سنبھالنے والے روٹ کے لیے یہ نتیجہ کپتانی کے نئے دور کا مضبوط آغاز ثابت ہوا۔
پاکستان کے خلاف اس سے پہلے انگلینڈ نے ہیڈنگلے اور لارڈز میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ ایجبسٹن میں پاکستان نے چوتھے دن کچھ دیر واپسی کی امید ضرور پیدا کی، لیکن روٹ اور کاکس کی شراکت نے اس کی امیدوں پر جلد پانی پھیر دیا۔
محمد عباس نے اننگز کے آغاز میں بین ڈکٹ کو وکٹ کے پیچھے کیچ کراکر انگلینڈ کو زبردست جھٹکا دیا۔ ڈکٹ کی سیریز میں اوسط کم ہوکر 8.80 رہ گئی۔ وہ اس موسم گرما میں انگلینڈ کی جانب سے سنچری بنانے والے واحد بلے باز تھے اور انہوں نے ٹرینٹ برج میں نیوزی لینڈ کے خلاف 113 رنز بنائے تھے۔
انگلینڈ کے دوسرے اوپنر ایمیلیو گے بھی عباس کا شکار بنے۔ عباس نے انہیں ایل بی ڈبلیو آو¿ٹ کیا۔ ایمیلیوگے نے پہلی اننگز میں 60 رنز کی جدوجہد بھری اننگز کھیل کر متاثر کیا تھا، لیکن دوسری اننگز میں وہ چار گیندوں کا سامنا کرکے بغیر کوئی رن بنائے آو¿ٹ ہوگئے۔
عباس کے ابتدائی دو وکٹوں سے پاکستان میں واپسی کی امید پیدا ہوئی، لیکن وہ تیسری وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ کاکس نے مشکل حالات میں رنز بناتے ہوئے اپنا کھاتہ کھولا، جبکہ روٹ نے رضا اللہ کی پہلی گیند کو سلپ کے درمیان سے نکالتے ہوئے چوکا لگایا۔
روٹ کو 23 رنز کے اسکور پر بھی زندگی ملی۔ اس کے بعد 34 رنز پر عباس کی گیند پر ان کا بیٹ کا کنارہ پہلی اور دوسری سلپ کے درمیان سے نکل گیا۔ اسی دوران محمد علی نے روٹ کو آو¿ٹ کردیا تھا، لیکن ان کی گیند نو بال قرار دی گئی۔ اس وقت روٹ 23 رنز پر تھے اور یہ موقع پاکستان کو بہت مہنگا پڑا۔
کاکس نے دوسرے سرے پر اعتماد کے ساتھ بیٹنگ جاری رکھی اور محمد علی کے خلاف شاندار سیدھا ڈرائیو کھیل کر اپنی اننگز کو رفتار دی۔ اس کے بعد عباس کی باو¿نسر وکٹ کیپر کو عبور کرتے ہوئے چار بائی کے لیے چلی گئی، جبکہ اوور تھرو سے بھی انگلینڈ کو اضافی رنز ملے۔
روٹ نے 57 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے اپنی نصف سنچری مکمل کی، جبکہ کاکس نے 61 گیندوں پر ففٹی بنائی۔ اس کے بعد انگلینڈ نے بغیر کسی پریشانی کے ہدف حاصل کرلیا۔
انگلینڈ کو اب موسم سرما میں جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف سخت امتحانات کا سامنا ہوگا، جس کے بعد میلبرن میں ایک ٹیسٹ کھیلا جائے گا۔ تاہم پاکستان کے خلاف 3-0 کی کامیابی نے روٹ کو کپتانی کے آغاز میں ٹیم کو سنبھالنے اور اسے درست سمت میں آگے بڑھانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کردی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ