سعودی عرب نے خام تیل کی اہم پائپ لائن ’ایسٹ ویسٹ‘ بند کرنے کا اعلان کیا
ریاض، 12 ستمبر (ہ س)۔ سعودی عرب نے اپنی اسٹریٹجک ’ایسٹ ویسٹ‘ خام تیل کی پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کر دیا ہے۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق، اس پائپ لائن کو ایک روز قبل ریاض اور دیگرعلاقوں میں متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، وزارت نے
سعودی عرب نے خام تیل کی اہم پائپ لائن ’ایسٹ ویسٹ‘ بند کرنے کا اعلان کیا


ریاض، 12 ستمبر (ہ س)۔ سعودی عرب نے اپنی اسٹریٹجک ’ایسٹ ویسٹ‘ خام تیل کی پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کر دیا ہے۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق، اس پائپ لائن کو ایک روز قبل ریاض اور دیگرعلاقوں میں متعدد حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، وزارت نے حملوں کے ذمہ دار افراد کی شناخت نہیں بتائی اور نہ ہی پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

ایران کی سرکاری بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی کے مطابق، ’ایسٹ ویسٹ‘ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کی گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔ یہ پائپ لائن ملک کے تیل کے ذخائر کو بحیرۂ احمر میں واقع برآمدی ٹرمینلز سے جوڑتی ہے اور خلیجِ فارس سے خام تیل کی ترسیل کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اس پائپ لائن کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں اس پائپ لائن نے ہنگامی تیل کے ذخائر جاری کرنے کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعودی عرب کے بحیرۂ احمر میں واقع تیل برآمدی راستے پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یمن کی جانب سے سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں اور بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ جولائی میں یمنی فوج نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’’محاصرے کے بدلے محاصرہ‘‘ کی حکمتِ عملی قرار دیا تھا۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اعداد و شمار کے مطابق، اگست میں بحیرۂ احمر کے راستے سعودی تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مغربی شہر ینبع سے سعودی خام تیل اور کنڈینسیٹ کی لوڈنگ چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب، مارکیٹ انٹیلی جنس پلیٹ فارم وورٹیکسا نے اگست میں ینبع سے لوڈنگ تقریباً 32 لاکھ بیرل یومیہ بتائی، جبکہ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تقریباً 15 لاکھ بیرل یومیہ رہی۔

پائپ لائن بند کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے مطابق، اگست میں سعودی عرب کی تیل پیداوار کم ہو کر تقریباً 62.4 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ جولائی میں یہ تقریباً 81 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ اسے 1990 کے بعد سعودی عرب کی تیل پیداوار کی کم ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب اور اوپیک کے دیگر ممالک تیل کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے پر آگے بڑھ رہے تھے۔

علاقائی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی رسد میں کمی کے باعث تیل کی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ہفتہ کے اختتام تک تیل کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگر سعودی عرب کے متبادل تیل برآمدی راستے بھی طویل عرصے تک متاثر رہتے ہیں تو عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande