’ٹکراؤ کے باوجود برکس کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا سفارتی کامیابی“
نئی دہلی، 12 ستمبر (ہ س):۔ ہندوستان نے یورپ اور مغربی ایشیا میں جاری فوجی تنازعات کے درمیان دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرنے والے گروپ برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرا
’ٹکراو¿ کے باوجود برکس کا مشترکہ اعلامیہ جاری ہونا سفارتی کامیابی“


نئی دہلی، 12 ستمبر (ہ س):۔

ہندوستان نے یورپ اور مغربی ایشیا میں جاری فوجی تنازعات کے درمیان دنیا کی تقریباً نصف آبادی کی نمائندگی کرنے والے گروپ برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں اتفاقِ رائے سے مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ اعلامیے میں عالمی حکمرانی کے نظام میں تبدیلی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالمی اداروں میں اصلاحات صرف نمائندگی بڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کو بھی موجودہ عالمی اقتصادی اور سیاسی حقائق کے مطابق بنایا جانا چاہیے۔

برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس میں جاری ”نئی دہلی اعلامیہ“ میں عالمی حکمرانی کے نظام میں برکس کی شراکت بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان چین اور روس نے بھی ہندوستان اور برازیل کے لیے عالمی اداروں میں ”زیادہ اہم“ کردار کی اپنی مانگ دہرائی ہے۔ ہندوستان کی قیادت میں مفادات اور نقطہ نظر میں اختلافات کے باوجود رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے قائم ہونا ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (اقتصادی تعلقات) سدھاکر دلیلا نے ہفتہ کی شام بھارت منڈپم میں ایک پریس کانفرنس میں اس کامیابی کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی اعلامیہ اسی اجتماعی اتفاقِ رائے کا نتیجہ ہے۔ اس میں دہشت گردی، عالمی حکمرانی کے اداروں میں اصلاحات اور زیادہ نمائندگی پر مبنی کثیر جہتی نظام جیسے اہم مسائل پر مشترکہ موقف سامنے آیا ہے۔

سدھاکر دلیلا نے کہا کہ برکس جیسے گروپ میں، جہاں رکن ممالک کے ترقیاتی تجربات اور اقتصادی نظام ایک دوسرے سے مختلف ہیں، یہ ضروری ہے کہ تمام ملکوں کو اپنے خیالات کھل کر پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے برکس کی صدارت کرتے ہوئے شفاف بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام ممالک اپنے قومی نقط نظر کو آزادانہ طور پر پیش کرسکیں۔ اس کے بعد مشترکہ نکات اور اتفاقِ رائے کے شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے باہمی اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے معاملے پر رکن ممالک کا نقطہ¿ نظر بڑی حد تک یکساں ہے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی تنازع یا ایسے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو بنیادی ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم کرنے کا یہی راستہ ہے۔

دلیلا نے کہا کہ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی واضح اور سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ نئی دہلی اعلامیے میں گزشتہ سال جموں و کشمیر میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی بھی برکس رہنماو¿ں نے سخت مذمت کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے سکریٹری نے کہا کہ عالمی حکمرانی سے متعلق اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی برکس ممالک نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اعلامیے میں زیادہ نمائندگی پر مبنی اور جامع کثیر جہتی نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اسی تناظر میں دلیلا نے کہا کہ برکس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر واضح طور پر بات کی ہے۔ برکس ممالک کا ماننا ہے کہ عالمی حکمرانی کے اداروں میں موجودہ عالمی حقائق کی بہتر عکاسی ہونی چاہیے۔ اسی سلسلے میں سلامتی کونسل میں اصلاحات اور اس کی توسیع سے متعلق معاملے کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برکس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے سلسلے میں ہندوستان اور دیگر برکس رکن ممالک کی امیدواری کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ موقف عالمی اداروں کو زیادہ نمائندہ اور جامع بنانے کے برکس کے وسیع تر عزم کے عین مطابق ہے۔

یک طرفہ ٹیرف اقدامات کے معاملے پر وزارتِ خارجہ کے اقتصادی تعلقات کے سکریٹری سدھاکر دلیلا نے کہا کہ یک طرفہ تعزیری اقدامات ہوں، یک طرفہ ٹیرف اقدامات ہوں یا یک طرفہ ماحولیاتی اقدامات، برکس کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے خلاف کوئی بھی اقدام نہیں ہونا چاہیے اور تجارت کو متاثر کرنے والے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونے چاہئیں۔

انہوں نے خصوصی طور پر بتایا کہ اعلامیے میں برکس کی مضبوطی،اختراع، تعاون اور پائیدار ترقی کے چار ستونوں کے تحت 50 عملی نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق نئی دہلی اعلامیے میں ترقیاتی ایجنڈے پر تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

دلیلا نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ فی الحال برکس میں مشترکہ کرنسی شروع کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس میں مقامی کرنسیوں کے ذریعے تجارتی لین دین کے تصفیے پر طویل عرصے سے بات چیت جاری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ برکس ممالک نے نئی دہلی اعلامیے کے ذریعے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ عالمی حکمرانی کے اداروں میں اصلاحات اور زیادہ نمائندگی پر مبنی کثیر جہتی نظام کی ضرورت کو بھی نمایاں کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande