جادوپور یونیورسٹی کے ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ کو شبھیندو کی سخت وارننگ، بولے- ہم لوگ ہی آپ کے ٹکڑے کر دیں گے
کولکاتا، 10 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے جادوپور یونیورسٹی کیمپس میں ملک مخالف نعرے اور متنازعہ سیاسی نعرے لگائے جانے کے معاملے پر جمعرات کو اسمبلی میں سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ’کشمیر مانگے آزادی‘ او
Tukre-gang-ju-suvendu-kolkata


کولکاتا، 10 ستمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ شبھیندو ادھیکاری نے جادوپور یونیورسٹی کیمپس میں ملک مخالف نعرے اور متنازعہ سیاسی نعرے لگائے جانے کے معاملے پر جمعرات کو اسمبلی میں سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ’کشمیر مانگے آزادی‘ اور ’کامریڈ کشن جی کو لال سلام‘ جیسے نعروں کا ذکر کرتے ہوئے ایسی سرگرمیوں میں شامل لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی۔

اسمبلی میں یونیورسٹی کے اساتذہ کے تبادلے سے متعلق بل پر بحث کے دوران وزیر اعلیٰ نے جادوپور یونیورسٹی کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور اس کی اتحادی آئی ایس ایف کو اس بل کے اثرات کو لے کر تشویش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشی اروبندو سے وابستہ اس یونیورسٹی میں ہاسٹل سے طلبہ کو نکال کر ’کشمیر مانگے آزادی‘ جیسے نعرے لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بدتمیزی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے شعبہ فنون کی دیواروں پر ’فری فلسطین‘ لکھے جانے اور کشن جی کی حمایت میں نعرے لگائے جانے کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کشن جی کی سرگرمیوں کے باعث بڑی تعداد میں بے قصور لوگوں کی جان گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بھارت کو ٹکڑے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والی کسی بھی طاقت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے لوگوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔

شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ ان کا ’برین واش‘ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جادوپور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر گوپال سین کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اس سلسلے میں کمیشن تشکیل دیا جائے گا اور پرانی تاریخ کو سامنے لایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی مہارت اور صلاحیت کا مثبت طریقے سے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ نئی یونیورسٹیوں میں تجربہ کار اساتذہ کو بھیج کر کمزور اداروں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ان کی صلاحیتوں کا مناسب استعمال کرنا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے جادوپور یونیورسٹی کے کچھ اساتذہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اساتذہ بائیں بازو کی نظریے کا لبادہ اوڑھ کر بھگوا کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اساتذہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے خلاف مارچ نہیں نکالتے اور سناتن دھرم کو صرف ثقافتی موضوع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن آپریشن سندور کے بعد ’جنگ نہیں، امن چاہیے‘ کی ریلی نکال رہے تھے۔

شبھیندو ادھیکاری نے کہا کہ نکسل نظریے کی جڑوں کو ختم کرنے کے لیے یہ مناسب وقت ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں واضح اشارہ دیا کہ یونیورسٹی کیمپس میں ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے خلاف سرگرمیوں کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

-----

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande