
نئی دہلی، 10 ستمبر(ہ س)۔ راوز ایونیو عدالت نے ریلوے ٹینڈر گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ معاملہ میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کے خلاف الزامات طے کیے ہیں۔ خصوصی جج وشال گوگنی نے الزامات طے کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے لالو یادو کے داماد راہل یادو سمیت سات افراد کو بری کرنے کا بھی حکم دیا۔
ان تینوں کے علاوہ عدالت نے لارا پروجیکٹس، سرلا گپتا، پریم چند گپتا، سجاتا ہوٹلس، ونے کوچر اور وجے کوچر کے خلاف الزامات طے کیے ہیں۔ عدالت نے راہل یادو، گورو گپتا، ناتھ مل کنکریا، وجے ترپاٹھی، ڈی این تلسیان، راجیو ریلان اور ابھیشیک فائنانس کو بری کر دیا۔ عدالت نے 13 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
عدالت نے 28 جنوری 2019 کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعے درج کیے گئے مقدمے میں لالو یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کو ایک ایک لاکھ روپے کے ذاتی بانڈ پر باقاعدہ ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے 19 جنوری 2019 کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے ذریعے درج مقدمے میں لالو یادو کو باقاعدہ ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے 13 اکتوبر 2025 کو ریلوے ٹینڈر اسکینڈل کے سی بی آئی سے منسلک معاملے میں لالو یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سمیت دیگر کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے 17 ستمبر 2018 کو ای ڈی کی طرف سے دائر چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔ لالو یادو پر الزام ہے کہ جب وہ وزیر ریلوے تھے تو انہوں نے دو ریلوے ہوٹلوں کو آئی آر سی ٹی سی کو منتقل کیا اور ہوٹلوں کی دیکھ بھال کے لیے ٹینڈر جاری کیے۔ رانچی اور پوری میں دو ہوٹلوں کی الاٹمنٹ کوچرس کی ملکیت والی کمپنی سجاتا ہوٹلس کو منتقل کر دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی