
کٹھمنڈو، 10 ستمبر (ہ س)۔ کٹھمنڈو وادی (کٹھمنڈو، للت پور اور بھکت پور) میں کھانا پکانے والی ایل پی جی گیس کا بحران دن بہ دن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک جانب نیپال آئل کارپوریشن کے کاغذی اعداد و شمار میں ہزاروں سلنڈروں کے وادی میں پہنچنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب عام شہری صبح سے ہی خالی سلنڈر لے کر ڈپو کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ بازار میں بلیک مارکیٹنگ بھی کھلے عام نظر آ رہی ہے۔
نیپال آئل کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، حال ہی میں تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر 87,877 سلنڈر کٹھمنڈو بھیجے گئے ہیں۔ اس کے باوجود صارفین کو گیس نہیں مل پا رہی ہے۔ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار گیس صنعت کاروں اور کاروباری افراد کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔ تاہم، گیس حقیقت میں کس ڈپو تک پہنچی اور صارفین میں کتنی تقسیم کی گئی، اس کی مؤثر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے سپلائی کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
نیپال آئل کارپوریشن کے ترجمان منوج کمار ٹھاکر کے مطابق، کٹھمنڈو وادی میں روزانہ تقریباً 35 ہزار سے 40 ہزار سلنڈروں کی کھپت ہوتی ہے۔ فی الحال اندازے کے مطابق 12 سے 15 لاکھ خالی سلنڈر لوگوں کے گھروں اور مختلف مقامات پر بے کار پڑے ہیں۔ ان تمام سلنڈروں کو ایک ساتھ بھرنے کے لیے معمول کی کھپت سے کہیں زیادہ گیس درکار ہے، جس کی وجہ سے صورتحال معمول پر آنے میں وقت لگ رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد