
کاٹھمانڈو، 10 ستمبر (ہ س)۔ نیپال نے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث رسوا میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصان کے معاوضے کے طور پر تقریباً 2 کروڑ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔
نیپال نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے فریم ورک برائے ماحولیاتی تبدیلی کے تحت قائم شدہ ’فنڈ فار ریسپانسنگ ٹو لاس اینڈ ڈیمیج‘ (نقصان اور ازالہ فنڈ) کو اس سلسلے میں ایک مکتوب ارسال کیا تھا۔
اس خط پر وزیر خزانہ ڈاکٹر سورنم واگلے اور وزیر ماحولیات گیتا چودھری نے دستخط کیے ہیں۔ وزیر خارجہ ششیر کھنال نے ایک پوڈ کاسٹ میں بتایا کہ نیپال نے فنڈ سے 2 کروڑ امریکی ڈالر کی رقم مانگی ہے۔
ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں وزیر خارجہ کھنال نے کہا، ’’فی الحال ہم نے 20 ملین ڈالر کے معاوضے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ محض ابتدائی مطالبہ ہے۔ آفت کے بعد نقصان کا تفصیلی تخمینہ لگا کر ہم پوری صورتِ حال دنیا کے سامنے رکھیں گے۔‘‘
نیپال دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں گرین ہاوس گیسوں کا اخراج بہت کم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال کو محض سیلاب سے ہونے والے نقصان کے لیے ہی نہیں، بلکہ ماحولیاتی توازن میں اس کے کردار کے پیشِ نظر بھی اس فنڈ سے مالی امداد ملنی چاہیے۔
نقصان اور ازالہ فنڈ سے متعلق فیصلے اس کا بین الاقوامی بورڈ کرتا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق رسوا کے سیلاب سے ہونے والے نقصان اور ماحولیاتی تبدیلی میں نیپال کے انتہائی معمولی اخراجات و کردار، دونوں پہلووں کو دیکھتے ہوئے نیپال کو اس فنڈ سے امداد حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ 26 اگست کو رسوا کی بھوٹے کوشی ندی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن