
ممبئی ، 10 ستمبر (ہ س)جین مذہب کے آٹھ روز چلنے والے ایک تہوار جسے پریوشن کہتے ہیں، اس دوران میرا بھائیندر میں مچھلی اور گوشت کی فروخت پر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے بعد اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا کی سیون اسکوائر اکیڈمی اسکول کے ایک حکم پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے پریوشن کے دوران طلبہ کے ٹفن میں پیاز، آلو، لہسن، چقندر اور دیگر زمین کے اندر اگنے والی سبزیاں لانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس سلسلے میں طلبہ اور والدین کو اسکول کی ایپ کے ذریعے ہدایات بھیجی گئی ہیں۔ اس حکم کے بعد والدین میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ بعض والدین نے اسکول کی جانب سے بھیجا گیا پیغام مہاراشٹر نونرمان سینا کے سچن پوپلے کو بھیجا، جس کے بعد منسے نے اس معاملے میں جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔
جین مذہب کے پریوشن تہوار کا آغاز 16 ستمبر سے ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران جین برادری کے افراد پیاز، لہسن، آلو اور دیگر زمین کے اندر اگنے والی سبزیوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اسی دوران میرا بھائیندر میونسپل کارپوریشن نے پورے شہر میں 2 دن تک مچھلی اور گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کی ہے۔ میرا بھائیندر کے مقامی باشندوں اور مراٹھی ایکی کرن سمیتی کی جانب سے اس فیصلے کی سخت مخالفت کیے جانے کے بعد پہلے ہی ہنگامہ برپا ہے۔
اسی پس منظر میں آج بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا کی سیون اسکوائر اکیڈمی نے طلبہ کے کھانے سے متعلق ہدایات جاری کیں۔ اس اسکول میں تمام ذاتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ طلبہ کے مذاہب، ثقافت، روایات اور کھانے پینے کے طریقے مختلف ہیں، اس کے باوجود وہ باہمی اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں۔ مہاراشٹر نونرمان ودیارتھی سینا کے میرا بھائیندر شہر صدر رابرٹ ڈیسوزا نے سوال اٹھایا کہ کسی ایک مذہبی روایت کی بنیاد پر تمام طلبہ کے کھانے پر پابندیاں کیوں عائد کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم سے شکایت کی ہے اور معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پریوشن کے دوران کھانے کے انتخاب کے سلسلے میں اسکول نے اپنی ایپ کے ذریعے ایک ہدایتی پیغام بھیجا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اس دوران طلبہ کو زمین کے اندر اگنے والی سبزیوں، جیسے پیاز، لہسن، آلو اور چقندر سمیت دیگر کندموں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کندموں کو شامل کرکے تیار کی گئی سبزیاں طلبہ اپنے ٹفن میں نہیں لاسکتے۔ اس کے علاوہ اسکول کی کینٹین میں بھی پیاز، لہسن، آلو اور چقندر شامل کسی بھی قسم کی غذائی اشیا دستیاب نہیں ہوں گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے