
نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس کے رہنماوں ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو بی جے پی رہنما اور وکیل گورو بھاٹیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی پوسٹوں کو ہٹانے کو کہا ہے۔ جسٹس تشار راو گڈیلا کی بنچ نے کاکروچ جنتا پارٹی کے تینوں رہنماوں کی طرف سے پیش وکیل سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ہدایات لیں اور عدالت کو مطلع کریں۔
گورو بھاٹیہ نے سی جے پی کے رہنماوں پر دو کروڑ کا ہرجانہ اور ان کے خلاف سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹوں پر عبوری روک کی درخواست کی ہے۔ گورو بھاٹیہ نے الزام لگایا ہے کہ سی جے پی اور اس کے رہنماوں نے اے آئی سے تیار کردہ گرافکس میں سوتنتر بھاردواج کے بارے میں ان کے نام کے ساتھ غلط حقائق شامل کیے ہیں۔
بھاردواج پر سی جے پی کارکن کے والد پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ گورو بھاٹیہ نے سوتنتر بھاردواج کو دماغی نکسل کہا تھا۔ سورو داس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک گرافک شیئر کیا تھا۔ گورو بھاٹیہ نے سورو داس پر اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹس سے عدالت کے بارے میں بھی غیرمناسب تبصرے پوسٹ کرنے کا الزام لگایا۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ سوربھ داس نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ سے جسٹس سورن کانت شرما کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان سے کیجریوال کے کیس کی سماعت سے دستبردار ہونے کو کہا تھا۔ سوربھ داس نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ عمر خالد کے حق میں بھی بات کی تھی۔ ایسا کرنا عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی