
نئی دہلی، 10 ستمبر (ہ س)۔ بھارت میں 12 سے 13 ستمبر تک منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کو لے کر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم کے ذریعہ برکس سے بھارت کو ہونے والے ٹھوس فوائد پر سوال اٹھائے جانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جوابی حملہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ کانگریس اور اس کے رہنماؤں کو مخالفت کی سیاست سے بالا تر ہو کر بھارت کی ترقی کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
بی جے پی کے قومی میڈیا کے شریک کنوینر آشیش اوشا اگروال نے ایکس پوسٹ میں چدمبرم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بھارت برکس جیسے اہم عالمی پلیٹ فارم کی میزبانی کر رہا ہے اور دنیا بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت اور کردار کو تسلیم کر رہی ہے، لیکن کانگریس کو کامیابی کی جگہ صرف سوالات نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے چدمبرم سے بیان دینے سے پہلے اعداد و شمار پر نظر ڈالنے کی بات کہی۔
بی جے پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ برکس میں بھارت کی تجارت اور اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ملک اب صرف دنیا کی اگلی صف میں ہی نہیں، بلکہ قیادت کی صف میں کھڑا ہے۔ انہوں نے جی20، 5جی اور ڈیجیٹل انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی پرانی عادت رہی ہے کہ بھارت آگے بڑھے تو سوال اٹھائے جائیں اور دنیا بھارت کا احترام کرے تو اس پر بھی شک کیا جائے۔
واضح ہو کہ چدمبرم نے کہا تھا کہ انہیں گزشتہ دو تین برکس اجلاسوں سے کوئی خاص ٹھوس فائدہ یا نتیجہ نظر نہیں آیا۔ انہوں نے برکس کے ساتھ ساتھ جی20، ایس سی او اور کواڈ جیسے کثیر فریقی گروپوں میں بھارت کی شرکت کے فوائد پر بھی سوال اٹھائے تھے۔
جبکہ مرکزی حکومت کے مطابق، بھارت کی برکس صدارت کے دوران تجارت اور اقتصادی تعاون کو لے کر کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اگست میں جے پور میں ہونے والے برکس کے وزرائے تجارت کے اجلاس میں برکس اکنامک پارٹنرشپ 2030 کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کی سمت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ وہیں ایم ایس ایم ای کے لیے تجارتی مالیات بڑھانے جیسے امور پر اتفاق رائے قائم ہوا تھا۔
اگروال نے کانگریس سے اپیل کی کہ مودی حکومت کی مخالفت کرتے کرتے ملک کی کامیابیوں کی مخالفت نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفت کی سیاست سے اوپر اٹھ کر بھارت کی ترقی کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد