اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بی جے پی حکومت کی کاروائی میں مزید شدت ، غیر منظور شدہ مدارس بند کرنے کی ہدایت
دہرادون، یکم ستمبر (ہ س): اتراکھنڈ حکومت نے مدارس کے خلاف اپنا رویہ مزید سخت کر دیا ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت نے کہا ہے کہ صرف ان مدارس کو ریاست میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی جو مقررہ معیارات پر پورا اترتے ہوں، اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی س
اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بی جے پی حکومت کی کاروائی میں مزید شدت ، غیر منظور شدہ مدارس بند کرنے کی ہدایت


دہرادون، یکم ستمبر (ہ س): اتراکھنڈ حکومت نے مدارس کے خلاف اپنا رویہ مزید سخت کر دیا ہے۔ ریاست کی بی جے پی حکومت نے کہا ہے کہ صرف ان مدارس کو ریاست میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی جو مقررہ معیارات پر پورا اترتے ہوں، اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی سے منظور شدہ ہوں اور اتراکھنڈ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن سے الحاق شدہ ہوں۔ جو مدارس اس زمرے میں نہیں آتے انکو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں بند کردیا جائے گا۔

مدارس کے تئیں حکومت کے سخت رویہ کے درمیان، جشن محمدی جلوس کے دوران ردر پور کے ترشول چوک میں مبینہ طور پر قابل اعتراض ریمارکس کا واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔ پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں متعلقہ مولوی کو گرفتار کر لیا اور بعد میں ضلعی انتظامیہ نے اس کے مدرسے کو سیل کر دیا۔ انتظامیہ نے کہا کہ مدرسہ مطلوبہ منظوری کے بغیر کام کر رہا تھا اور قوانین ضوابط کی تعمیل نہیں کر رہا تھا۔

وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ 'دیو بھومی' (دیوتاؤں کی سرزمین) پرسخت مذہبی تعلیم دینے والے مدارس جیسے تعلیمی نظام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے وضع کردہ قواعد و ضوابط تمام اداروں پر یکساں لاگو ہوں گے اور ان کی تعمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس حکومتی فیصلے کے بعد، اب توجہ پہلے سے رجسٹرڈ 452 مدارس پر مرکوز ہے، جن میں سے تقریباً 200 نے منظوری کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ موقع پر معائنہ اور دستاویزات کی تصدیق اس بات کا تعین کرے گی کہ کون سے مدارس نئے معیار پر پورا اترتے ہیں اور کن اداروں کو حکومتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقلیتی محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر پراگ مدھوکر دھکاٹے نے بتایا کہ 452 مدارس جو پہلے اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ تھے اب انہیں اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے تحت منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو مدارس طے شدہ عمل کے ذریعے پہچان حاصل کرنے میں ناکام رہے انہیں قائم رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 200 مدارس سے آن لائن درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان درخواستوں کی بنیاد پر متعلقہ مدارس کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔

اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے چیئرمین پروفیسر سرجیت سنگھ گاندھی نے کہا کہ منظوری حاصل کرنے کے لیے مدارس کو اپنی عمارتوں، کلاس روم کی گنجائش، طلبہ کے بیٹھنے کے انتظامات، اور بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پینے کا پانی، اور بیت الخلا کی سہولیات کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ اسکے علاوہ مدرسہ کے منتظمین کو بینک اکاؤنٹس اور ادارے کو ملنے والی مالی امداد سے متعلق تفصیلات جمع کرانے کی ضرورت ہوگی۔ اتھارٹی ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد منطوری کا فیصلہ کرے گی۔

پروفیسر گاندھی نے مزید کہا کہ مدارس میں دی جانے والی مذہبی تعلیم کے نصاب کا تعین بھی اتھارٹی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کا دائرہ کار صرف مسلم اداروں تک محدود نہیں رہے گا۔ سکھ، بدھ اور عیسائی اداروں کو بھی اس کے دائرے میں لایا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande