
لکھنو، 9 اگست (ہ س)۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات 2027 کی تیاریوں کے درمیان سماجوادی پارٹی (ایس پی) نے برہمن ووٹروں پر خصوصی توجہ بڑھا دی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے روایتی سماجی تانے بانے کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایس پی قیادت مسلسل برہمن سماج سے متعلق پروگراموں، مذاکراتی اجلاسوں اور سماجی نمائندگی کے مسائل کو ترجیح دے رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر آشیش وششٹھ کا ماننا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد ایس پی یہ اندازہ لگا رہی ہے کہ اگر پسماندہ، دلت اور مسلم ووٹ بینک کے ساتھ برہمن ووٹروں کا ایک حصہ بھی اس کے حق میں آتا ہے تو کئی اسمبلی نشستوں پر مقابلہ سہ رخی ہونے کے بجائے براہ راست بی جے پی اور ایس پی کے درمیان محدود ہو سکتا ہے۔
ایس پی سربراہ اکھلیش یادو گزشتہ کچھ عرصے سے برہمن رہنماوں کو اسٹیج پر نمایاں مقام دینے، مذہبی و ثقافتی پروگراموں میں شرکت بڑھانے اور مبینہ نظراندازی کے مسائل اٹھانے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پارٹی صرف ایک ذات کے ووٹ بینک تک محدود نہیں ہے۔ پارٹی کے اندر بھی برہمن چہروں کو تنظیمی ذمہ داریاں دینے پر غور تیز ہو گیا ہے۔ دوسری جانب بی جے پی اس کوشش کو سیاسی موقع پرستی قرار دے رہی ہے۔ بی جے پی رہنماوں کا کہنا ہے کہ برہمن سماج نے گزشتہ انتخابات میں ترقی، نظم و نسق اور ہندوتوا کے مسائل پر پارٹی پر اعتماد ظاہر کیا تھا اور یہ حمایت برقرار ہے۔ بی جے پی تنظیم بھی بوتھ سطح پر برہمن رابطہ مہم کو فعال رکھے ہوئے ہے۔
سیاسی ماہر سریندر اگنی ہوتری کا ماننا ہے کہ اتر پردیش کی تقریباً 100 سے زیادہ اسمبلی نشستوں پر برہمن ووٹروں کا فیصلہ کن اثر ہے۔ ایسے میں ایس پی کی یہ مہم محض علامتی نہیں بلکہ نشستوں پر مبنی انتخابی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ فی الحال ایس پی کا ہدف بی جے پی کے سماجی ووٹ بینک میں نقب لگانا ہے، جبکہ بی جے پی اپنے وسیع ہندوتوا اور ترقیاتی ایجنڈے کے ذریعے اس حمایت کو برقرار رکھنے کے چیلنج سے دوچار ہے۔ آنے والے مہینوں میں دونوں جماعتوں کی سرگرمیاں یہ طے کریں گی کہ مشن 2027 میں برہمن ووٹ کس حد تک انتخابی رخ تبدیل کرتے ہیں۔
لکھنو واقع سماجوادی پارٹی کے مرکزی دفتر میں جنیشور مشرا جینتی کے موقع پر منعقدہ پرُبدھ سمیلن (دانشورانہ کانفرنس) میں اکھلیش یادو نے ایودھیا صدر نشست سے سابق رکن اسمبلی پون پانڈے کو 2027 کے اسمبلی انتخابات کا امیدوار قرار دے کر بڑا سیاسی اشارہ دیا۔ اسے ایس پی کی جانب سے اعلان کردہ پہلا اہم چہرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پروگرام میں اکھلیش نے پی ڈی اے فارمولے میں ’پنڈت‘ یعنی برہمن سماج کی شمولیت پر خصوصی زور دیا۔ سمیلن میں برہمن نمائندوں کی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ ایس پی اب اپنے سماجی ووٹ بینک کو پسماندہ، دلت اور اقلیتوں سے آگے بڑھا کر اعلی ذات کے سماج تک وسعت دینے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
سینئر صحافی شیو شرن سنگھ کا ماننا ہے کہ ہندوتوا کی سیاست کا مضبوط مرکز سمجھی جانے والی ایودھیا سے پون پانڈے کو امیدوار قرار دے کر ایس پی بی جے پی کو براہ راست چیلنج دینا چاہتی ہے۔ پارٹی یہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایودھیا صرف مذہبی علامت نہیں بلکہ سماجی اور سیاسی نمائندگی کا بھی مرکز ہے۔ برہمن چہرے کو آگے کر کے ایس پی ہندوتوا بمقابلہ سماجی انصاف کی بحث میں نئی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پیغام واضح ہے کہ پارٹی رام نگری میں بھی اپنی سیاسی موجودگی مضبوط سمجھ رہی ہے اور اعلیٰ ذات کے سماج، خاص طور پر برہمن ووٹروں تک براہ راست رسائی بنانے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
سینئر صحافی سیارام پانڈے کے مطابق اتر پردیش میں برہمن ووٹروں کی تعداد تقریباً 10 سے 12 فیصد مانی جاتی ہے، جو تقریباً 2.5 سے 3 کروڑ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ مشرقی اتر پردیش، اودھ، پریاگ راج، وارانسی، گورکھپور، ایودھیا، کانپور اور بندیل کھنڈ کے کئی اضلاع میں ان کی موثر موجودگی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ریاست کی تقریباً 100 سے زیادہ اسمبلی نشستوں پر برہمن ووٹ جیت اور ہار کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی، ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس سمیت تمام جماعتیں وقتاً فوقتاً برہمن سمیلن، نمائندگی اور احترام کی سیاست کے ذریعے اس طبقے کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن