بہار میں تعلیمی نظام کو مضبوط، معیاری اور طلبہ پر مرکوز کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ کے متعدد اہم فیصلے
پٹنہ 09 اگست(ہ س)۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کنونشن بلڈنگ میں محکمہ تعلیم کے ذریعہ منعقدہ دو روزہ ریاستی سطحی ورکشاپ اور غور و فکر کے کیمپ کا شمع روشن کرکے افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام ک
اعضاء کے عطیہ کے بارے میں عوامی بیداری کے لیے ایک بڑے پیمانے پر مہم چلائی جائے گی: وزیر اعلیٰ


پٹنہ 09 اگست(ہ س)۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کنونشن بلڈنگ میں محکمہ تعلیم کے ذریعہ منعقدہ دو روزہ ریاستی سطحی ورکشاپ اور غور و فکر کے کیمپ کا شمع روشن کرکے افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں تعلیمی نظام کو مضبوط، معیاری اور طلبہ پر مرکوز کرنے کی سمت میں اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ معیاری تعلیم کو ہر اسکول تک پہنچانے کے لیے ریاستی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ ہر اسکول کو ایک بہترین مرکز بنایا جا سکے اور طلباء کی سیکھنے کی سطح میں مسلسل بہتری آئے۔ بہار میں امتحانات کو ہموار، شفاف، منصفانہ اور جدید بنانے کے لیے ریاستی سطح کی امتحانی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی بورڈ اور مسابقتی امتحانات میں ٹیکنالوجی اوراے آئی کے استعمال کے ساتھ ساتھ کلاس روم کی بنیاد پر تشخیص کے ذریعے طلباء کے علم، تفہیم اور تجزیاتی صلاحیت کے بہتر اندازے کے لیے تجویز کرے گی۔ اس کے ساتھ تعلیم کی بہتری کے لیے خصوصی تعاون کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا۔، جس میں وزیر اعلیٰ، وزراء،ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، طلباء سے بات چیت کریں گے اور ان کے مشورے اور مسائل سنیں گے۔ طلباء کی فلاح و بہبود سے متعلق کاموں کے بہتر تال میل اور موثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ محکموں میں ڈائریکٹوریٹ کی تشکیل کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کے نوجوانوں کو قومی دھارے سے جوڑنا حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ بہار کا مستقبل یہاں کے نوجوان ہیں اور آنے والی نسل ریاست کی تزئین و آرائش کرے گی۔ حکومت ایسا تعلیمی نظام تیار کرنا چاہتی ہے تاکہ بہار کے بچوں کو بہتر تعلیم کے لیے دوسری ریاستوں میں نہ جانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس مالی قوت ہے وہ اپنے بچوں کو اچھے ا سکولوں میں بھیج رہے ہیں۔ لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے بہتر تعلیمی نظام فراہم کرے جن کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ بہار سے بڑی تعداد میں بچے پڑھائی کے لیے کوٹا سمیت دیگر ریاستوں میں جا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بہار میں تعلیم کے میدان میں ایک بہتر نظام بنانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار سے بڑی تعداد میں طلباء اعلیٰ تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے باہر جا رہے ہیں۔ اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے تحت تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے دیئے جا رہے ہیں اور اس کا ایک بڑا حصہ دوسری ریاستوں کو جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹہ میں لاکھوں بچے پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں پڑھانے والے اساتذہ کی بڑی تعداد بہار سے ہے۔ ایسے میں بہار میں ہی ایسا بہتر تعلیمی ڈھانچہ تیار کرنے کی ضرورت ہے، جس سے ریاست کے بچوں کے باہر جانے کی ضرورت کم ہو۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوان نسل کے تئیں حساس ہے۔ وزراء،ارکان پارلیمنٹ،ارکان اسمبلی اور سینئرافسران اسکولوں اور کالجوں میں جاکر طلباء سے بات چیت کریں گے۔ طلباء سے موصول ہونے والی تجاویز کو پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی سطح پر طلباء کے لیے ہر ماہ سہیوگ شیور کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ ان کے مسائل اور تجاویز پر موثر کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی ثقافت، تہذیب اور شاندار تاریخ کو آگے لے جانے کا کام صرف نوجوان نسل ہی کرے گی۔ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے علیحدہ نظام وضع کیا جائے گا۔ طلبہ سے متعلق تمام شعبہ جات مل کر ایک ڈائریکٹوریٹ بنائیں گے جہاں طلبہ کے مسائل حل ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار میں اب تک 551 ماڈل اسکول بنائے جاچکے ہیں۔ حکومت کا نشانہ 1001 ماڈل ا سکول بنانے کا ہے۔ تعلیمی نظام میں نظم و ضبط اور معیار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم سے متعلق جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے معاملات میں سی سی اے(کرائم کنٹرول ایکٹ) کے تحت کارروائی کی جائے گی، جس کے تحت قصورواروں کو ایک سال تک جیل میں رکھنے کا انتظام ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا نظام 15 اگست سے شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت بچے رات 11 بجے تک آن لائن تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ تعلیم کی حالت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے ریاستی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تجاویز اور ایکشن پلان پر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام بچوں کو کمپیوٹر اور انگریزی کی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سنسکرت، اردو اور بہار کی پانچ زبانوں کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے فائدہ اٹھا کر تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنا نے کی سمت میں کام کرنا ہو گا۔ بہار میں امتحانات کو باقاعدگی ، شفاف، غیرجانب دار اور جدید بنانے کے لیے ریاستی سطح کی امتحان سدھار کمیتی کی تشکیل کی گئی ہے ۔ کمیٹی بورڈ اور مسابقتی امتحان کے ساتھ ساتھ کلاس روم کی بنیاد پر تشخیص میں تکنیک اور اے آئی کے استعمال کے ذریعہ طلبا کے علم ، فہم اور تجزیاتی صلاحیتوں کے بہتر اندازے کے لیے مشورہ دے گی۔ اس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے ’وندے ماترم‘ کتاب اور وندے ماترم بکلیٹ کا اجرا کیا۔پروگرام کے دوران محکمہ تعلیم کے اسپیشل سکریٹری مسٹر دھرمیندر کمار نے وزیر اعلیٰ کو شال، گلدستہ اور سوامی وویکانند کے مجسمے کا ایک مومنٹو پیش کر کے ان کا خیرمقدم کیا۔چنتن شیور میںوزیر تعلیم متھلیش تیواری، چیف سکریٹری پرتیئے امرت، وزیر اعلیٰ کے سکریٹری سنجے کمار سنگھ، بہار اسکول ایگزامینیشن بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر تیاگراجن ایس ایم،ڈی ایم کندن کمار، اور محکمہ تعلیم کے افسران موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande