حیدرآباد میں بزرگ شہری سائبر فراڈ کا شکار،102 کروڑ روپے سے زائد کی چوری
حیدرآباد ،09 اگست (ہ س)۔ حیدرآباد میں سائبرجرائم پیشہ افرادنے بزرگ شہریوں کوبڑے پیمانے پرنشانہ بناناشروع کردیاہے۔ گزشتہ 19 ماہ کے دوران شہرمیں60سال سے زائدعمرکے403افرادسائبرفراڈ کاشکار ہوئے، جن سے مجموعی طورپر102 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زیادہ رقم چور
حیدرآباد میں بزرگ شہری سائبر فراڈ کا شکار،102 کروڑ روپے سے زائد کی چوری


حیدرآباد ،09 اگست (ہ س)۔ حیدرآباد میں سائبرجرائم پیشہ افرادنے بزرگ شہریوں کوبڑے پیمانے پرنشانہ بناناشروع کردیاہے۔ گزشتہ 19 ماہ کے دوران شہرمیں60سال سے زائدعمرکے403افرادسائبرفراڈ کاشکار ہوئے، جن سے مجموعی طورپر102 کروڑ 2 لاکھ روپے سے زیادہ رقم چوری کرلی گئی۔ حیدرآباد سٹی پولیس کے اعداد وشمارکے مطابق یہ مقدمات جنوری 2025 سے 31 جولائی 2026 تک درج کیے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سائبر مجرم بزرگ شہریوں کو جعلی سرمایہ کاری، آن لائن ملازمت، نام نہاد ڈیجیٹل گرفتاری، ایک بار استعمال ہونے والے تصدیقی کوڈ کی چوری اور جذباتی تعلقات کے ذریعے دھوکہ دے رہے ہیں۔ حال ہی میں جوبلی ہلز کے رہنے والے 75 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو واٹس ایپ پرگھربیٹھے جزوقتی ملازمت کی پیشکش کی گئی۔ابتدا میں دھوکہ بازوں نے انہیں چھوٹے چھوٹے کام دئیے اورکچھ رقم بھی ادا کی،جس سے بزرگ شہری کااعتماد حاصل کرلیا گیا۔ بعد میں انہیں ایک ٹیلی گرام گروپ میں شامل کیا گیا،جہاں غیرملکی زرِمبادلہ کی تجارت میں سرمایہ کاری کالالچ دیا گیا۔ ایک جعلی آن لائن پلیٹ فارم پرانہیں بھاری منافع دکھایا گیااورمزیدرقم لگانے کےلیے اُکسایاگیا۔ جب متاثرہ شخص نے اپنی رقم اورمبینہ منافع واپس لینے کی کوشش کی تودھوکہ بازوں نے واپسی اورکارروائی کے نام پرمزید رقم طلب کی۔ یوں مختلف لین دین کے ذریعے ان سے 96 لاکھ روپے ہتھیالئے گئے۔ ایک دوسرے معاملے میں 70 سالہ ریٹائرڈ گزٹیڈ افسرکو ایک شخص نے واٹس ایپ ویڈیو کال کی اورخودکوممبئی پولیس کا افسر ظاہرکیا۔ دھوکہ باز نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ شخص کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ہوا ہے اور گرفتاری کی دھمکی دی۔ جعلی دستاویزات کے ذریعے خوف پیدا کرنے کے بعد بینک کھاتوں کی جانچ کے نام پرانہیں85 لاکھ روپے ایک ہی آرٹی جی ایس لین دین کے ذریعے منتقل کرنے پرمجبورکیا گیا۔اعداد و شمارکے مطابق بزرگ شہریوں کے لیے سب سے بڑا مالی خطرہ جعلی تجارتی سرمایہ کاری ثابت ہوئی۔ 403 معاملات میں 113 کیسز تجارتی سرمایہ کاری کے فراڈ سے متعلق تھے، جن میں متاثرین کو مجموعی طور پر 55 کروڑ 88 لاکھ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ حیدرآباد پولیس کمشنر سجنار نے بزرگ شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ واٹس ایپ یا ٹیلی گرام پر آنے والی فوری ملازمت یا غیر معمولی منافع کی پیشکشوں پر بھروسہ نہ کریں۔ سرمایہ کاری سے پہلے متعلقہ ادارے یا پلیٹ فارم کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں اور کبھی بھی نامعلوم افراد کے ساتھ بینک کی تفصیلات، تصدیقی کوڈ،آدھاریا مستقل اکاؤنٹ نمبرجیسی حساس معلومات شیئر نہ کریں۔ اگرکسی شخص کے ساتھ سائبرفراڈ ہوجائے توخاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر 1930 پرشکایت درج کرانا انتہائی اہم ہے۔پولیس کے مطابق فراڈ کے فوراً بعد اطلاع دینے سے رقم کو منجمد کرنے اور ممکنہ طور پرواپس حاصل کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande