
نئی دہلی، 9 اگست(ہ س)۔
دہلی کے وزیر برائے خوراک و رسد منجندر سنگھ سرسا نے عام آدمی پارٹی کے دہلی کنوینر سوربھ بھاردواج اور رکن اسمبلی سنجیو جھا کی جانب سے سستے چاول کی خریداری سے متعلق لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد، جھوٹا، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
سرسا نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا کہ ان الزامات کا واضح مقصد ان کی شبیہ کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ یا تو وہ عوامی طور پر معافی مانگیں یا پھر عدالت میں ان کا سامنا کریں۔
وزیر منجندر سنگھ سرسا نے سوربھ بھاردواج اور سنجیو جھا کو الزامات واپس لینے اور عوامی طور پر معافی مانگنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ مدت میں ایسا نہیں کیا گیا تو وہ دونوں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرنے اور مبینہ طور پر بدنیتی پر مبنی الزامات کے لیے انہیں جواب دہ بنانے پر مجبور ہوں گے۔
واضح رہے کہ سوربھ بھاردواج اور سنجیو جھا نے ایک پریس کانفرنس میں دہلی کی بی جے پی حکومت اور وزیر منجندر سنگھ سرسا پر مبینہ گھوٹالے کی سازش کا الزام عائد کیا تھا۔
دونوں رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے غریبوں کے لیے رعایتی نرخوں پر چاول خرید کر اسے آگے فروخت کرنے کے ذریعے منافع کمانے کا منصوبہ بنایا تھا۔
آپ رہنماؤں نے الزام لگایا کہ دہلی حکومت اور آسام کی ایک تنظیم نے مبینہ طور پر مل کر فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) سے سبسڈی والا چاول حاصل کرکے اسے نجی ہاتھوں میں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
ان کے مطابق اس مبینہ منصوبے کے تحت دہلی کے غریبوں میں تقسیم کرنے کے نام پر ایف سی آئی سے ہر ہفتے تقریباً 31 ہزار میٹرک ٹن رعایتی چاول حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ الزام ہے کہ یہ چاول دہلی کے ضرورت مند شہریوں تک پہنچانے کے بجائے براہ راست ہریانہ کی ایک نجی کمپنی کو بھاری منافع پر فروخت کیا جانا تھا۔
آپ رہنماؤں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس مبینہ منصوبے کے ذریعے ہر ہفتے تقریباً 143 کروڑ روپے کے گھپلے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام تین سال تک جاری رہتا تو مبینہ گھوٹالے کی مجموعی مالیت تقریباً 22 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتی تھی۔
دوسری جانب وزیر منجندر سنگھ سرسا نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ یوں چاول کی خریداری اور مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اب سیاسی الزام تراشی کے ساتھ ساتھ ممکنہ قانونی جنگ کی جانب بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan