
ممبئی، 9 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے اتوار کو رائے گڑھ میں الزام عائد کیا کہ سیاسی مداخلت کے باعث ریاست کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترقیاتی منصوبے متاثرہورہے ہیں۔ انہوں نے ممبئی گوا ہائی وے کی تعمیر میں تاخیر اور سڑک کی خراب حالت پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ساتھ ہی مجوزہ تھرڈ ممبئی منصوبے میں شفافیت کی کمی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقامی کسانوں اور زمین مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنے کا مطالبہ کیا۔راج ٹھاکرے رائے گڑھ کے دورے پر تھے۔ ممبئی گوا ہائی وے کی تعمیر میں تاخیر اور سڑک کی خراب حالت کا جائزہ لینے کے بعد انہوں نے کہا کہ منصوبے میں مسلسل تاخیر کی ایک بڑی وجہ مقامی سیاسی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں تعمیر کیے گئے سڑک کے بعض حصے بھی ناقص تعمیر کے باعث خراب ہونے لگے ہیں۔ مرکزی وزیر سڑک نقل و حمل و شاہراہ نتن گڈکری کے ساتھ اپنی سابقہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے راج ٹھاکرے نے کہا کہ گڈکری نے ایک مرتبہ ان سے کہا تھا کہ ٹھیکیدار پریشان ہوکر کام چھوڑ کر چلے گئے۔ تاہم، راج ٹھاکرے نے سوال کیا کہ آخر ان ٹھیکیداروں کو کام چھوڑنے پر کس نے مجبور کیا۔راج ٹھاکرے نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں ترقی کے نام پر زمین کے استعمال اور حصول سے متعلق مقامی لوگوں کو مناسب معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا موجودہ طریقہ کار شہر بسانے، سڑکیں خراب کرنے اور زمین فروخت کرنے تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ مجوزہ تھرڈ ممبئی ترقیاتی منصوبے کے بارے میں بھی راج ٹھاکرے نے حکومت سے مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔ اس منصوبے کے تحت ڈیٹا ہب کے ساتھ تعلیمی، طبی اور کھیلوں کی سہولیات سے لیس شہر تیار کیے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مہاراشٹر کے لوگوں کو آخر اس منصوبے کے بارے میں کتنی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مقامی کسانوں اور زمین مالکان کو ان کی زمین سے دور کردیا گیا تو وہ اپنی ہی زمین پر صرف سابق زمین مالکان بن کر رہ جائیں گے۔ راج ٹھاکرے نے سوال کیا کہ کیا مہاراشٹر کے لوگوں کو واقعی معلوم ہے کہ ریاست میں کیا ہو رہا ہے اور بیرونی لوگوں کو یہاں آباد ہوتے دیکھنے کے علاوہ مقامی لوگوں کے پاس کیا بچے گا۔ راج ٹھاکرے نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی ترقی کے خلاف نہیں ہے، لیکن ایسا ترقیاتی ماڈل قابل قبول نہیں جس میں مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہ لیا جائے اور ان کی روزی روٹی متاثر ہو۔ انہوں نے مقامی شہریوں سے اپیل کی کہ آنے والی صنعتوں کے ساتھ شراکت داری کریں، لیکن اپنی زمین فروخت کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ زمین ہی مقامی لوگوں کی اصل شناخت اور معاشی بنیاد ہے، اس لیے ترقی کے نام پر انہیں اپنی زمین اور معاشی بنیاد سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے