
جموں, 09 اگست (ہ س)۔
جموں کی تاریخی پریڈ سبزی منڈی میں اتوار کی صبح جموں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے انہدامی کارروائی کی گئی، جس کے دوران تقریباً 20 عارضی و پختہ دکانوں کو منہدم کر دیا گیا۔ کارروائی کے خلاف تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ پر بغیر پیشگی اطلاع دکانیں مسمار کرنے کا الزام عائد کیا۔
جے ایم سی کی ٹیم نے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں صبح تقریباً 7 بجے کارروائی انجام دی۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی 5.88 کروڑ روپے کی لاگت سے پریڈ سبزی منڈی کی جدید کاری اور ازسرنو ترقی کے منصوبے کا حصہ ہے۔پریڈ سبزی منڈی ویجیٹیبل اینڈ فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر سبھاش چندر شرما نے کہا کہ تاجر منڈی کی جدید کاری کے مخالف نہیں ہیں، تاہم متاثرہ دکانداروں کے لیے پہلے متبادل جگہ اور بحالی کا مناسب انتظام کیا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تاجروں کو دکانیں خالی کرنے کے لیے مناسب وقت یا پیشگی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دکانوں میں سامان موجود تھا، جس کے باعث تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔شرما نے مجوزہ منڈی میں چھ فٹ چوڑے راستوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سبزی فروش بڑی مقدار میں مال لاتے ہیں، اس لیے اتنے محدود راستے تاجروں کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ بعض دکانیں تقریباً سو سال سے قائم ہیں اور کئی خاندان نسلوں سے انہی دکانوں کے ذریعے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے دکانداروں نے متبادل دکانیں یا جگہ فراہم کرنے، مناسب معاوضہ دینے اور واضح بحالی منصوبہ مرتب کرنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب جے ایم سی کے ریڈیویلپمنٹ منصوبے کے تحت منڈی میں موسم سے محفوظ ایم اہس کورڈ شیڈ تعمیر کیا جائے گا، جس میں 117 وینڈر پلیٹ فارمزکے علاوہ 44 مستقل تجارتی دکانیں بھی تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔ منصوبے میں صفائی ستھرائی اور دیگر جدید عوامی سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر