عدالتی احکامات : حیدرآباد میں انہدامی کارروائی پر ہائی کورٹ برہم
حیدرآباد ،09 اگست (ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود حیڈرا کی جانب سے انہدامی کارروائی کیے جانے کے معاملے پرسخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب عدالت کی جانب سے پہلے ہی عبوری احکامات جاری کیے جاچکے تھے تواس
عدالتی احکامات : حیدرآباد میں انہدامی کارروائی پر ہائی کورٹ برہم


حیدرآباد ،09 اگست (ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود حیڈرا کی جانب سے انہدامی کارروائی کیے جانے کے معاملے پرسخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب عدالت کی جانب سے پہلے ہی عبوری احکامات جاری کیے جاچکے تھے تواس کے باوجود انہدامی کارروائی کیسے کی گئی۔ یہ معاملہ وانی کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کی جانب سے دائردرخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔درخواست گزاروں نے ضلع میڑچل-ملکاجگیری میں واقع سروے نمبر 194/1 اور 211 میں موجود پلاٹوں کی حفاظتی دیوارمبینہ طورپرمنہدم کیے جانے کوہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔ سماعت کے دوران جج نے حکام سے سوال کیا کہ ہائی کورٹ کے سابقہ عبوری احکامات کے باوجود حیڈرا نے انہدامی کارروائی کس طرح انجام دی۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ حیڈرا کے سینئرعہدیداروں نےعدالتی احکامات کے ہوتے ہوئے انہدام کی ہدایت کس بنیاد پرجاری کی۔ عدالت نے اس کارروائی پر سخت ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ اگرعدالتی احکامات کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تویہ توہینِ عدالت کے مترادف ہوسکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے معاملے کوسنجیدگی سے لیتے ہوئے میڑچل-ملکاجگیری ضلع کلکٹر،تروملگیری تحصیلداراورملکاجگیری تحصیلدارکو نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے مذکورہ عہدیداروں کو11 اگست کو ذاتی طورپرعدالت میں حاضر ہونے اورانہدامی کارروائی سے متعلق مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کی اس کارروائی کے بعد حیڈرا کی انہدامی سرگرمیوں اورعدالتی احکامات کی تعمیل سے متعلق ایک بار پھرسوالات اٹھ گئے ہیں۔ معاملے کی مزید سماعت عہدیداروں کی پیشی اورریکارڈ کی جانچ کے بعد متوقع ہے۔

۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande