اسمارٹ سٹی منصوبوں کی چمک ماند پڑی، کروڑوں کی لاگت سے تیار بجلی نظام بدحالی کا شکار
علی گڑھ, 09 اگست (ہ س)علی گڑھ اسمارٹ سٹی کے تحت شہر کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے اور روشنی کے بہتر انتظامات کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن چند برس گزرنے کے بعد ہی کئی منصوبوں کی حالت نے تعمیراتی معیار اور دیکھ بھال کے نظام پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ لال
لائٹس


علی گڑھ, 09 اگست (ہ س)علی گڑھ اسمارٹ سٹی کے تحت شہر کو جدید سہولتوں سے آراستہ کرنے اور روشنی کے بہتر انتظامات کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن چند برس گزرنے کے بعد ہی کئی منصوبوں کی حالت نے تعمیراتی معیار اور دیکھ بھال کے نظام پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ لال ڈگی کی اسمارٹ روڈ پر نصب قیمتی لائٹنگ پولز میں سے کئی ٹوٹ کر زمین پر آ چکے ہیں، جبکہ بعض پولز کے غائب ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

علی گڑھ کو سال 2017 میں اسمارٹ سٹی مشن میں شامل کیا گیا تھا۔ شہر میں 37 سے زائد منصوبوں پر تقریباً 998 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جن میں سڑکوں کی تعمیر، خوب صورتی، بجلی اور روشنی سمیت متعدد کام شامل تھے۔ زیادہ تر منصوبے سال 2024 تک مکمل کر لیے گئے، تاہم اب بعض مقامات پر بنیادی سہولتوں کی خراب حالت نے منصوبوں کی پائیداری پر بحث چھیڑ دی ہے۔

لال ڈگی کے قریب تقریباً 21.41 کروڑ روپے کی لاگت سے اسمارٹ روڈ تیار کی گئی تھی۔ اس منصوبے پر کام 2020 میں شروع ہوا اور 2023 میں مکمل ہوا۔ سڑک کے اطراف جدید طرز کی لائٹس اور پول نصب کیے گئے تھے، لیکن کچھ ہی عرصے میں متعدد پولز ٹوٹ گئے۔ بعض پولز کے چوری ہونے کی شکایت بھی پولیس تک پہنچنے کی بات سامنے آئی ہے۔ ایسے میں سوال اٹھنا فطری ہے کہ بھاری رقم خرچ کرکے تیار کی گئی شہری سہولتیں چند ہی سال میں اس حالت تک کیسے پہنچ گئیں؟

اسی طرح سینٹر پوائنٹ اور میرس روڈ کی خوب صورتی کے منصوبے کے دوران بجلی کی تاروں کو زیرزمین کرنے سمیت مختلف کاموں پر تقریباً 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ تعمیر کے وقت ان اقدامات کو شہر کی خوب صورتی اور جدید شہری نظام کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے کئی سہولتیں یا تو متاثر ہو چکی ہیں یا پہلے جیسی نمایاں نہیں رہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی بڑے شہری منصوبے کی کامیابی صرف اس کی تعمیر تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کی پائیداری، باقاعدہ دیکھ بھال اور مستقبل کی ضروریات کو بھی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اگر کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار بنیادی ڈھانچہ چند برسوں میں خراب ہونے لگے تو اس سے منصوبہ بندی، تعمیراتی معیار اور دیکھ بھال، تینوں پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande