
نئی دہلی، 8 اگست (ہ س)۔
دہلی اسمبلی سکریٹریٹ نے ہفتہ کو دو طلبہ وفود کی میزبانی کی۔ ان میں برکس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے یوتھ لیڈرشپ ڈائیلاگ 3.0 میں شرکت کرنے والے بین الاقوامی شرکا اور اسٹوڈنٹ پارلیمنٹ (ڈی پی ایس لاوا، ناگپور) کے طلبہ ارکانِ پارلیمنٹ شامل تھے۔ یہ وفود دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا کی پہل پر شروع کیے گئے ہفتہ وار یوتھ کنیکٹ پروگرام کے تحت اسمبلی پہنچے۔
وجیندر گپتا نے برکس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری یوتھ لیڈرشپ ڈائیلاگ 3.0 کے نمائندوں کے ساتھ حکمرانی، عوامی پالیسی، سفارت کاری، کاروبار اور عالمی تعاون سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور بہتر حکمرانی ایسے آفاقی اقدار ہیں جو مختلف ممالک کے نوجوانوں کے درمیان مختلف نقطہ نظر کے ساتھ ہونے والے مکالمے سے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عوامی پالیسی کی سمجھ اور سفارتی نقطہ نظر سے بااختیار بنانا پائیدار ترقی اور عالمی استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ عالمی چیلنجز کے حل میں نوجوان نسل کی شمولیت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
دوسرے وفد میں اسٹوڈنٹ پارلیمنٹ (ڈی پی ایس لاوا، ناگپور) کے طلبہ شامل تھے۔ انہوں نے شہری شعور اور قانون سازی کے عمل کو سمجھنے کے مقصد سے منعقدہ خصوصی تعارفی پروگرام میں شرکت کی۔ نوجوان نمائندوں کو براہ راست یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ پارلیمانی نظام میں بلوں پر کس طرح بحث کی جاتی ہے، قوانین کیسے بنائے جاتے ہیں اور انتظامیہ کی جواب دہی کس طرح یقینی بنائی جاتی ہے۔
دونوں وفود کو دہلی اسمبلی کی تاریخی عمارت کا دورہ بھی کرایا گیا۔ 1912 میں تعمیر کی گئی اس عمارت میں ابتدا میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا کرتا تھا۔ یہ عمارت ہندوستان کی تحریک آزادی اور ملک کی قانون سازی کی ترقی سے متعلق کئی اہم تاریخی واقعات کی گواہ رہی ہے۔
وفود کو اہم پارلیمانی شخصیات، بالخصوص وٹھل بھائی پٹیل کی ادارہ جاتی میراث، اور 1993 میں دہلی اسمبلی کی ازسرنو تشکیل کے بعد سے اس کے سفر کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ