کانپور میں گھر میں گھس کر میاں بیوی پر حملہ، شوہر کی موت
کانپور، 8 اگست(ہ س)۔ اتر پردیش کے کانپور شہر کے ساڑھ تھانہ علاقے کے دیوشنگ گاؤں میں جمعہ کی دیر رات کھیتوں کے درمیان بنے ایک مکان میں گھسے دو بدمعاشوں نے میاں بیوی پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس واردات میں شوہر شدید زخمی ہو گیا جبکہ بیوی ک
کانپور میں گھر میں گھس کر میاں بیوی پر حملہ، شوہر کی موت


کانپور، 8 اگست(ہ س)۔ اتر پردیش کے کانپور شہر کے ساڑھ تھانہ علاقے کے دیوشنگ گاؤں میں جمعہ کی دیر رات کھیتوں کے درمیان بنے ایک مکان میں گھسے دو بدمعاشوں نے میاں بیوی پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ اس واردات میں شوہر شدید زخمی ہو گیا جبکہ بیوی کو بھی چوٹیں آئیں۔ شوہر کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ہفتہ کو علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔ واقعے کے بعد دونوں بدمعاش موٹر سائیکل سے فرار ہو گئے۔

ایڈیشنل پولیس کمشنر قانون و نظم ڈاکٹر وپن ٹاڈا نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ زخمی خاتون کو علاج کے لیے ہیلیٹ اسپتال بھیجا گیا، جہاں اس سے واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کی جانچ کے ساتھ ساتھ آس پاس کے علاقوں میں بھی تفتیش شروع کر دی ہے۔ واردات کا جلد انکشاف اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کرائم برانچ، سوات، سرویلانس سمیت پولیس کی سات ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق محمد کلو، 40، اپنی اہلیہ شاہ جہاں اور دو سالہ بیٹی کے ساتھ گاؤں سے تقریباً 700 میٹر دور کھیتوں میں بنے مکان میں رہتے تھے۔ دیر رات دو بدمعاش ان کے گھر میں داخل ہوئے اور میاں بیوی پر حملہ کر دیا۔ اچانک ہونے والے حملے کی وجہ سے دونوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ حملہ آوروں نے تیز دھار ہتھیار سے وار کیے اور اس کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ واردات سے پہلے بدمعاشوں نے مکان کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا رخ اوپر کی طرف کر دیا تھا۔ اس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملزمان نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی۔ پولیس آس پاس کے راستوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کھنگال رہی ہے۔

تفتیش میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مقتول کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں رہتے تھے اور چند ماہ پہلے ہی واپس آئے تھے۔ وہ اپنے خاندان سے الگ کھیت میں بنے مکان میں رہ رہے تھے۔ ان کے بیٹے بیرون شہر رہ کر ملازمت کرتے ہیں۔ پولیس لوٹ مار، پرانی دشمنی اور دیگر ممکنہ وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے۔ پولیس نے بدمعاشوں کے فرار ہونے کے ممکنہ راستوں پر بھی تفتیش تیز کر دی ہے۔ سرویلانس کی مدد سے مشتبہ نمبروں اور سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کرکے انہیں جلد گرفتار کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande