ایشین گیمز سے قبل ذہنی مضبوطی پر توجہ، شین واٹسن کی کتاب سے ترغیب لے رہے ہیں تیرانداز ساحل جادھو
کولکاتا، 7 اگست (ہ س)۔ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے کمپاؤنڈ تیر انداز ساحل جادھو ایشین گیمز 2026 کے لیے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس (این سی او ای )، کولکاتا میں تربیت لے رہے ساحل نے کہا کہ سابق آس
Sports-Archery-Asian-Games-Sahil


کولکاتا، 7 اگست (ہ س)۔ ہندوستان کے ابھرتے ہوئے کمپاؤنڈ تیر انداز ساحل جادھو ایشین گیمز 2026 کے لیے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس (این سی او ای )، کولکاتا میں تربیت لے رہے ساحل نے کہا کہ سابق آسٹریلیائی کرکٹر شین واٹسن کی کتاب دی ونرس مائنڈ سیٹ نے انہیں دباو میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور ذہنی دباؤ میں مضبوط بننے کی ترغیب دی ہے ۔

سائی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ساحل نے کہا، ’تقریباً ایک ماہ قبل میں نے شین واٹسن کی کتاب 'دی ونرس مائنڈ سیٹ' پڑھنا شروع کی تھی۔ شروع میں میرا مقصد موبائل پر کم وقت گزارنا تھا، لیکن اس کتاب کے ذریعے مجھے ٹورنامنٹسکے دوران دباؤ سے نمٹنے اور خود کو پوری طرح مرکوز رکھنے کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔‘

25 سالہ ساحل کا سفر آسان نہیں رہا۔ انہوں نے 19 سال کی عمر میں تیر اندازی شروع کی اور اپنا پہلا قومی سطح کا تمغہ جیتنے کے لیے سات سال انتظار کرنا پڑا۔ اس مشکل وقت میں ان کے خاندان کا تعاون ان کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔

انہوں نے کہا،”میں نے 19 سال کی عمر میں تیر اندازی شروع کی تھی لیکن میرے گھر والوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ سچ پوچھیں تو انہوں نے مجھ سے زیادہ قربانیاں دیں۔ سات سال کے بعد میں نے قومی سطح پر اپنا پہلا تمغہ حاصل کیا۔ ہر سال میں اس سے بہت کم فرق سے محروم رہ جاتا تھا۔ یہ میرے صبر اور جدوجہد کا سب سے بڑا امتحان تھا۔“

ساحل کی محنت 2024 میں رنگ لائی جب انہوں نے سینئر نیشنل تیراندازی چیمپئنشپ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ اس کے بعد انہوں نے 2025 ورلڈ یونیورسٹی گیمز میں انفرادی مقابلے میں سونے کا تمغہ اور ٹیم ایونٹ میں چاندی کا تمغہ جیتا ۔ اس سال انہوں نے چین کے شہر شنگھائی میں 2026 ورلڈ آرچری ورلڈ کپ اسٹیج 2 میں مردوں کے کمپاو¿نڈ انفرادی مقابلے میں کانسے کا تمغہ جیت کر اپنے کیریئر کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ جب میں میڈل کے پوڈیم پر کھڑا تھا تو میں اپنے والدین، ان کی قربانیوں اور گزشتہ چند برسوں کی جدوجہد کو یاد کر رہا تھا۔

ساحل ایشین گیمز کے بارے میں پراعتماد ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ہندوستانی تیر اندازوں کو دباؤ میں چھوٹی غلطیوں سے بچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا،”ہندوستانی ٹیم کے لیے سلیکشن ٹرائلز کو دنیا کا سب سے مشکل ٹرائل سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم ہندوستانی ٹیم میں جگہ بناتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن کئی بار دباؤ میں، ہمارے تیر انداز چھوٹی غلطیاں کرتے ہیں یا ایک یا دو پوائنٹس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس طرح ہم نے تین ورلڈ کپ میں کانسے کے تمغے گنوائے ہیں۔ہمیں اس کمی کو دور کرنا ہوا۔ اگر ہم صد فیصد دیں گے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔“

ساحل گزشتہ تین چار برسوں سے کولکاتا میں سائی کے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔سائی کی سہولیات کی تعریف کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ”یہاں کا ماحول تربیت کے لیے بہترین ہے۔ سائی ہماری تربیت، رہائش، خوراک، سامان اور دیگر تمام سہولیات کا خیال رکھتا ہے۔سائی نے میری بین الاقوامی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔“

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande