
درختوں کی کٹائی، خستہ سڑکوں، ترقیاتی کاموں اور تعلیمی نظام پر بھی حکومت کو نشانہ بنایاناشک، 7 اگست (ہ س) ۔ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے شہر میں سڑکوں پر بڑھتے ہوئے گڑھوں، درختوں کی کٹائی، رکی ہوئی ترقیاتی اسکیموں اور آئندہ سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں پر ریاستی حکومت اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ناسک میں بڑے پیمانے پر درخت کاٹے جا رہے ہیں، احتجاج کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ سنگھستھ کمبھ میلے کے نام پر شہریوں کو گڑھوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر عوام یہ سب دیکھنے کے باوجود دوبارہ انہی لوگوں کو منتخب کرتے ہیں تو اس کے نتائج بھی انہیں ہی بھگتنا ہوں گے۔دو روزہ دورۂ ناسک کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راج ٹھاکرے نے سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے گجرات کے ٹھیکیداروں کو ترجیح دے کر دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مہاراشٹر میں قابل اور باصلاحیت ٹھیکیدار موجود نہیں ہیں؟ ان کا الزام تھا کہ کمیشن خوری کی ذہنیت کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔راج ٹھاکرے نے کہا کہ 2003 اور 2015 کے کمبھ میلوں کا تجربہ سب کے سامنے ہے۔ ان کے مطابق 2015 میں بھی ترقیاتی کام ہوئے تھے، لیکن شہریوں کو اس قدر مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا، جبکہ اس وقت شہر کی بیشتر سڑکیں کھڈوں سے بھر چکی ہیں اور آئے دن حادثات پیش آ رہے ہیں، مگر انتظامیہ اس جانب توجہ نہیں دے رہی۔انہوں نے اسمارٹ سٹی منصوبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہر کی ترقی کے لیے کیے گئے وعدوں اور اعلانات کا کیا ہوا اور اس منصوبے کے نتائج عوام کو کیوں نظر نہیں آ رہے۔راج ٹھاکرے نے پیرا ایتھلیٹ دلیپ گاویت سے ملاقات نہ ہو سکنے کے معاملے پر بھی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی اطلاع ہی نہیں دی گئی تھی کہ دلیپ گاویت ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ اگر انہیں آگاہ کیا جاتا تو وہ ضرور ملاقات کرتے۔ انہوں نے کہا کہ دلیپ گاویت دو گھنٹے انتظار کرتے رہے، جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی، اس پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دلیپ گاویت کے دہلی سے واپس آنے کے بعد وہ ان سے ضرور ملاقات کریں گے۔راج ٹھاکرے نے ریاست کے تعلیمی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب کالجوں کے مقابلے میں کوچنگ کلاسیں طلبہ کے مستقبل کا تعین کر رہی ہیں۔ انہوں نے کوچنگ کلاسوں اور تعلیمی اداروں کے مبینہ گٹھ جوڑ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس رجحان پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے نیٹ امتحان کے پرچہ لیک کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتحانی نظام میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے طلبہ میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ، مایوسی اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مؤثر اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے