
جموں, 07 اگست (ہ س)۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی مخالفت کو ملک کی مخالفت قرار نہیں دیا جا سکتا اور آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی اپنے حالیہ بیان میں اس فرق کو تسلیم کیا ہے۔جمعہ کو جموں میں ایک سڑک کی اپ گریڈیشن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کا احتجاج اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے تھا، نہ کہ ملک کے خلاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا انتظامیہ کی مخالفت جمہوری نظام کا حصہ ہے اور کئی مرتبہ ایسی تنقید سے حکومت کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملتا ہے، جو ملک کے مفاد میں ہوتا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ موہن بھاگوت نے درست کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے نوجوان ملک کے خلاف نہیں تھے بلکہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موہن بھاگوت کے بیان کے بعد احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف جاری کارروائیاں بند کی جائیں۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے جھارکھنڈ میں پرچہ لیک معاملے پر جاری احتجاج کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیں گے، ان سے بات کریں گے اور مسئلے کا پرامن حل نکالیں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر