
علی گڑھ, 07 اگست (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ‘‘پریم چند کی عصری معنویت’’ کے عنوان سے ایک ادبی نشست منعقد کی گئی۔
صدر شعبہ پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ پریم چند اٹھارہ سو اسی عیسوی میں پیدا ہوئے اور انیس سو چھتیس عیسوی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اس درمیان انھوں نے سینکڑوں افسانے لکھے، متعدد ناول لکھے، ترجمے بھی کیے اور مضامین بھی لکھے۔ انھوں نے جو کچھ لکھا، ہندوستانی معاشرے اور مزاج کو سامنے رکھ کر لکھا۔ وہ اپنے دور میں بھی معتبر تھے اور آج بھی ان کی معنویت برقرار ہے۔
پروفیسر فریدی نے نئے تعلیمی سال میں طلبہ و طالبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے مزید کہا کہ پریم چند کے افسانے اور ناول معاشرے کو ایک نئی راہ دکھاتے ہیں۔ وہ کرداروں کو فطری انداز میں پیش کرتے ہیں اور آسان زبان میں زندگی کے اسرار و رموز کو بڑی خوبی سے قاری کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر طارق چھتاری نے کہا کہ عام طور پر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پریم چند صرف حقیقت نگار ہیں لیکن یہ ادھوری سچائی ہے۔ وہ انسانی نفسیات کے ماہر ہیں اور باریک بینی سے کرداروں کی نفسیات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی لیے پریم چند کی کہانیاں آج بھی معنی خیز ہیں۔
پروفیسر امتیاز احمد نے پریم چند کی افسانہ نگاری کی تکنیک پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ پریم چند نے صرف افسانے نہیں لکھے بلکہ دنیا کے بہترین ادب کا مطالعہ بھی کیا تھا جس سے ان کے فن میں وسعت پیدا ہوئی۔ان کے یہاں اخلاقیات پر زور ہے۔
ڈاکٹر خالد سیف اللہ نے کہا کہ جنہیں افسانہ نگاری کا شوق ہے، انھیں پریم چند کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ہم ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اردو اور ہندی میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔
ڈاکٹر معید الرحمن نے کہا کہ بڑے ادیب ہر دور میں پڑھے جاتے ہیں اور ان کی تحریریں ہر زمانے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔پریم چند ایسے ہی ادیب تھے۔ ڈاکٹر خالد سیف اللہ کے کلمات تشکر کے ساتھ پروگرام تکمیل کو پہنچا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ