
دھرم شالہ، 7 اگست (ہ س)۔ جلاوطن 17 ویں تبتی پارلیمنٹ نے چینی حکومت کی طرف سے منظور کیے جانے والے نام نہادایتھنک یونیٹی اینڈ پروگریس لاء(نسلی اتحاد اور ترقی کے قانون) کی شدید مخالفت کی ہے۔ تبت کی پارلیمنٹ نے دنیا کے مختلف ممالک سمیت تبت دوست تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ چین کو اس قانون کی منظوری سے روکیں اور اس کے خلاف احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون تبت اور تبتیوں کے مفادات کے خلاف ہے اور ان کی مرضی کے خلاف تبتیوں پر زبردستی مسلط کیا جا رہا ہے۔
جلاوطن تبتی پارلیمنٹ کی ڈپٹی اسپیکر ڈولما سیرنگ تیکھانگ نے بتایا کہ ایک عالمی پہل کے تحت تبت کی جلاوطن پارلیمنٹ نے تمام سربراہان مملکت، رہنماو¿ں اور اراکین پارلیمنٹ، اقوام متحدہ کے اداروں، یورپی پارلیمنٹ کے اداروں ، انسانی حقوق کی تنظیموں، مذہبی رہنماو¿ں اور بین مذاہب رہنماو¿ں کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اس خط کا مرکزی موضوع عوامی جمہوریہ چین کی طرف سے منظور کیا جانے والا نام نہاد نسلی اتحاد اور ترقی کا قانون ہے۔
ڈپٹی اسپیکر ڈولما سیرنگ نے کہا کہ یہ خط اس لیے لکھا گیا ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ قانون ظاہری طور پر تو اچھا لگتا ہے۔ یہ اتحاد کا وعدہ کرتا ہے، لیکن اس اتحاد کا مطلب ان تمام لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو کمیونسٹ حکمرانی کے تحت رہتے ہیں جیسے تبتی، اویغور، منگولاور تمام غیر ہان لوگ۔ اس قانون کے بارے میں سنگین تشویش یہ ہے کہ یہ نہ صرف کمیونسٹ حکمرانی کے تحت رہنے والے شہریوں کو بلکہ عوامی جمہوریہ چین سے باہر رہنے والوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی، اقلیتوں کے لیے انصاف کے بارے میں لکھنے والے اور ثقافتی تنوع کے وجود کا خیال رکھنے والے سبھی متاثر ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس قانون کا آرٹیکل 54 کمیونسٹ قیادت اور پارٹی سے وفاداری دکھانے کے لیے بچوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ وہ نابالغوں کو اپنے والدین کی جاسوسی کے لیے استعمال کر نے اور یہبتانے کے لئے کر رہے ہیں کہ ان کے والدین کس طرح نسلی اتحاد اور ترقی کے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب خاندان کی فلاح و بہبود اور خاندان کے افراد کے درمیان اعتماد پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے تو پوری انسانیت متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ہم دنیا کے تمام ذمہ دار رہنماو¿ں اور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تاکہ یہ مسئلہ آپ کی دہلیز تک نہ پہنچے۔ انہوں نے دنیا بھر کے تمام ممالک اور تنظیموں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر ان مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف لڑیں جو پوری دنیا میں اتحاد اور ترقی کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد