جموں و کشمیر میں پہلی بار دو مستقل لوک عدالتیں قائم کی جائیں گی
جموں و کشمیر میں پہلی بار دو مستقل لوک عدالتیں قائم کی جائیں گی جموں،07 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں پہلی باردو مستقل لوک عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن میں ایک جموں اور دوسری سرینگر میں ہوگی۔ عمر عبداللہ حکومت نے اس سلسلے میں تجویز کو منظوری دے دی
Courts


جموں و کشمیر میں پہلی بار دو مستقل لوک عدالتیں قائم کی جائیں گی

جموں،07 اگست (ہ س)۔

جموں و کشمیر میں پہلی باردو مستقل لوک عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن میں ایک جموں اور دوسری سرینگر میں ہوگی۔ عمر عبداللہ حکومت نے اس سلسلے میں تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ منظوری کے بعد یہ معاملہ حتمی منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو بھیج دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق لیگل سروسز اتھارٹیز ایکٹ، 1987 کی دفعہ 22-بی کے تحت قائم کی جانے والی ان مستقل لوک عدالتوں کی سربراہی ضلع و سیشن جج کریں گے۔ اس وقت جموں و کشمیر میں لوک عدالتیں وقتاً فوقتاً منعقد کی جاتی ہیں، تاہم نئی منظوری کے بعد یہ مستقل اداروں کی شکل اختیار کر لیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقل لوک عدالتوں کے قیام کا مقصد عوام کو تیز، کم خرچ اور آسان انصاف فراہم کرنا ہے۔ ان عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے علاوہ مقدمہ درج ہونے سے قبل کے تنازعات بھی باہمی مفاہمت کے ذریعے نمٹائے جائیں گے، جس سے روایتی عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا۔ دریں اثنا، حکومت نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں دو اضافی ججوں کی متوقع تقرری کے پیش نظر 30 نئی اسامیوں کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔ ذرائع کے مطابق نومبر 2024 میں ہائی کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 17 سے بڑھا کر 25 کر دی گئی تھی، تاہم نئی اسامیوں پر تقرری کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ خزانہ نے دو اضافی ججوں کے لیے ضروری اسامیوں کی منظوری دے دی ہے، جبکہ مزید ججوں کی تقرری کے ساتھ دیگر اسامیاں بھی مرحلہ وار قائم کی جائیں گی۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد تقرری کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande