
ہائی کورٹ کی حیڈرا پر سخت برہمی، نوٹس جاری کیے بغیر انہدامی کارروائی پر سوالاتحیدرآباد، 07 اگست (ہ س)۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے کنڈاپورمیں نوٹس جاری کیے بغیرکی گئی انہدامی کارروائی پرحیڈرا اورمحکمۂ ریونیوکے عہدیداروں پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی کے طریقۂ کارپرکئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ تبصرہ عدالت نے پیمّاسانی سدھارانی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران کیے۔ درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا کہ رنگاریڈی ضلع کے سیری لنگم پلی منڈل کے کنڈا پور میں واقع سروے نمبر60 میں ان کے350 مربع گز کے پلاٹ کے گرد تعمیرکی گئی باؤنڈری وال اورچوکیدار کے کمرے کوحیڈرا نے منہدم کردیا۔ درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ انہدامی کارروائی سے قبل کسی بھی قسم کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حیڈرا کی جانب سے عدالت میں داخل کیے گئے جواب (کاؤنٹر) میں بھی کہیں یہ ذکرموجود نہیں کہ متاثرہ فریق کوپیشگی نوٹس دیا گیا تھا۔ اس پرہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے تبصرہ کیا، یہ کیا طریقہ ہے کہ نوٹس دئیے بغیرانہدامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں؟ کیا اس لیے نوٹس نہیں دیے جاتے کہ متاثرہ افراد عدالت سے رجوع نہ کرسکیں؟ کیا راتوں رات سب کچھ گرا دیا جائے اور لوگوں کو قانونی چارہ جوئی کا موقع بھی نہ ملے؟ سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ متعلقہ اراضی کوسرکاری زمین قرار دینے کی تصدیق کس بنیاد پر کی گئی۔ موجودہ منڈل ریونیو آفیسر (ایم آر او) نے عدالت کو بتایا کہ ان سے پہلے تعینات ایم آر او نے اس زمین کو سرکاری اراضی قرار دیا تھا۔ اس پر ہائی کورٹ نے متعلقہ سابق ایم آر او کو تمام اصل ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کی آئندہ سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق