
حیدرآباد ،07 اگست (ہ س)۔ تلنگانہ کے محبوب آباد ضلع ہاسپٹل میں ایک چارسالہ بچے کومبینہ طورپر(ایکسپائر)دوا فراہم کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد بچے کے والد نے ہاسپٹل کے عملے کے خلاف شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے احتجاج کیا۔ اطلاعات کے مطابق اندرانگر کالونی کے رہائشی مرلی اپنے چارسالہ بیٹے اینوس راج کوالٹی اوردست کی شکایت پرمحبوب آباد کے سرکاری ہاسپٹل لے گئے۔ اوپی(آوٹ پیشنٹ) میں ڈاکٹروں نے بچے کامعائنہ کرنے کے بعد دوشربت تجویزاکیے۔ ہاسپٹل کے عملے نے ایک شربت ہاسپٹل سے فراہم کیاجبکہ دوسراشربت باہرسے خریدنے کا مشورہ دیا۔ جب مرلی گھر پہنچ کربچے کودوا پلانے لگے توانہوں نے شربت کی بوتل پردرج تاریخ دیکھی،جس کے مطابق دواکی مدتِ استعمال جون 2026میں ختم ہو چکی تھی۔
یہ دیکھ کرمرلی فوری طورپردوبارہ ہاسپٹل پہنچے اورعملے سے اس بارے میں وضاحت طلب کی،جس پران کی ہاسپٹل کے عملے سے تلخ کلامی ہوگئی۔ شدید غصے کااظہارکرتے ہوئے مرلی نے کہا،اگربچے کوایکسپائری دوا دے دی جائے توکیا اس کی جان چلی جائے؟ انہوں نے ذمہ دارافراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سرکاری ہاسپٹلوں میں ادویات کی جانچ اورتقسیم کے نظام کومزید مؤثربنانے کی ضرورت پرزوردیا۔
اس واقعے پرہاسپٹل انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیاگیا ہے۔ تاہم اس معاملے نے سرکاری ہاسپٹلوں میں مریضوں کی حفاظت اورادویات کے معیارپرسنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق