
کولکاتا، 07 اگست (ہ س):۔
ترنمول کانگریس کے ایک رکنِ پارلیمنٹ کے قریبی ساتھی سمیت رائے نے ایک بار پھر کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ایک روز قبل ہی سپریم کورٹ نے شالبنی اراضی گھوٹالہ معاملے میں ان کی گرفتاری پر عبوری روک لگا دی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے دیگر مقدمات میں گرفتاری کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے تحفظ کی درخواست کی، تاہم ہائی کورٹ نے ان کی فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی۔
سمیت رائے کو اساتذہ بھرتی بدعنوانی کیس میں پہلے ہی کلکتہ ہائی کورٹ سے پیشگی ضمانت مل چکی ہے، لیکن شالبنی اراضی گھوٹالہ کیس میں پیشگی ضمانت نہ ملنے پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ان کی گرفتاری پر عبوری روک لگا کر انہیں راحت فراہم کی۔
اس دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اراضی گھوٹالہ اور اساتذہ بھرتی بدعنوانی کے علاوہ سمیت رائے کے خلاف چار دیگر ایف آئی آر بھی درج ہیں۔ انہی مقدمات میں ممکنہ گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر انہوں نے دوبارہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے قانونی تحفظ کی اپیل کی۔
سمیت رائے نے مقدمے کی فوری سماعت کی درخواست کی تھی، لیکن جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے یہ کہتے ہوئے فوری سماعت سے انکار کر دیا کہ فی الحال ایسی کوئی ہنگامی صورتِ حال موجود نہیں جس کی بنیاد پر مقدمے کی فوری سماعت کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کیس کی سماعت مقررہ فہرست کے مطابق ہوگی۔
شالبنی اراضی گھوٹالہ کیس میں سپریم کورٹ نے اگرچہ س±میت رائے کی گرفتاری پر عبوری روک لگائی ہے، تاہم اس کے ساتھ کئی شرائط بھی عائد کی ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ سمیت رائے تفتیشی ایجنسی کے سامنے پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہوں گے اور مکمل تعاون کریں گے۔ دورانِ تفتیش وہ اپنے ساتھ ایک وکیل بھی رکھ سکتے ہیں۔ تفتیشی ایجنسی انہیں صبح 10 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان پوچھ گچھ کے لیے طلب کر سکتی ہے، لیکن اس دوران انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ